JIP - Jamaat-e-Islami Pakistan | جماعت اسلامی پاکستان

Source: http://jamaat.org

Archived: 2026-04-23 16:41

JIP - Jamaat-e-Islami Pakistan | جماعت اسلامی پاکستان
تعارف
تاریخ
عمومی سوالات
قیادت
کتابیں
منشور
دستور
جماعت اسلامی
سب سے منفرد کیوں ہے ؟
نظریاتی تحریک
عالمی اثرات
جمہوری اقدار
غیر موروثی قیادت
کرپشن سے پاک
جماعت اسلامی کے بانی
سید ابوالاعلیٰ مودودی
(1903-1979)
جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے۔ اس کی بنیاد مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ نے 26 اگست 1941ء کو لاہور میں رکھی تھی۔ 73 افراد اور قلیل سرمائے سے آغاز کرنے والا قافلہ آج لاکھوں میں ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس کے اثرات محسوس کی جاتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اسلامی تحریکوں نے سید مودودیؒ کی فکر سے فائدہ اٹھایا ہے۔
اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر اپنانے کے لیے جماعت اسلامی لوگوں کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے تاکہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کی اہمیت ان پر واضح ہو سکے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مسلمانوں کو دیے گئے اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی باکردار اور باصلاحیت افراد کی تیاری کے لیے مسلسل کوشاں ہے، جو نہ صرف ذمہ دار شہری ہوں، بلکہ صالحیت اور صلاحیت سے متصف ہوں، اور ملک میں جمہوری سیاسی نظام کے فروغ، عادلانہ معاشی نظام، انسانی حقوق کے تحفظ اور پاکستانی شہریوں کو مذہب و مسلک اور زبان و علاقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر سہولیات کی فراہمی پر یقین رکھتے ہوں۔
پاکستان میں اسلامی نظام کی جدوجہد، قرارداد مقاصد کی منظوری، ختم نبوت کی تحریک، آئین پاکستان کی تیاری و منظوری، اتحاد امت اور خدمت خلق کے حوالے سے جماعت اسلامی کی خدمات نمایاں ہیں، جس کا سب اعتراف کرتے ہیں۔ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت، اسلامی اقدار کی ترویج اور اسلامی نظام حیات کے نفاذاور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا کردار نمایاں رہا ہے۔
تفصیل جانیے
مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ نے اقامت دین اور اسلام کے بطور ایک مکمل ضابطہ حیات کے نظریہ دیا۔ انھوں نے غلبہ دین اور اسلامی نظام کے نفاذ کی جو فکر لٹریچر اور عملی جدوجہد کی صورت میں پیش کی، اس نے نہ صرف برصغیر پاک و ہند، بنگلہ دیش، کشمیر اور سری لنکا کے مسلمانوں کو متاثر کیا اور ان کی زندگیوں کا رخ بدل ڈالا، بلکہ اس فکر کے عالمگیر اثرات مرتب ہوئے۔ ترکی سے مصر تک، ایشیا سے افریقہ اور عالم عرب سے عالم مغرب تک دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں تک اس فکر کے اثرات نہ پہنچے ہوں۔ اسلامی تحریکات اور مسلمانوں نے دنیا بھر میں اس نظریہ و فکر سے استفادہ کیا۔ اس سے نہ صرف لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہوئیں بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد بھی جس کے اثرات آج مختلف ممالک میں دیکھے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی عالمی سطح پر مسلمانوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کی حامی ہے، ان کی مضبوطی اور بڑھوتری کی خواہاں ہے، جبکہ دنیا کے تمام ممالک سے باہمی عزت، برابری اور انصاف کی بنیاد پر تعلقات کے قیام کی خواہاں ہے۔
تفصیل جانیے
جماعت اسلامی آئینی و جمہوری ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے انقلاب امامت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے جماعت کے اندر مثالی جمہوریت و شورائیت کا نظام موجود ہے، جس میں مرکزی امیر سے یونین کونسل کے امیر تک انتخابی عمل سے گزرتے ہیں، اور ارکان جماعت اپنی آزادانہ رائے کا استعمال کرتے ہوئے ہر سطح کا امیر کا انتخاب عمل میں لاتے ہیں۔ اس تناظر میں جماعت اسلامی کو صحیح معنوں میں ملک کی واحد جمہوری پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
جماعت اسلامی میں مرکزی امیر کی مدت پانچ سال، صوبائی امیر کی تین اور ضلعی امیر کی دو سال ہے۔ اس کے ساتھ ارکان جماعت مرکزی و صوبائی اور ضلع و تحصیل کی مجالس شوری کا بھی اپنے ووٹ کے ذریعے سے انتخاب کرتے ہیں۔ شوری کے مشورے سے جماعت کی پالیسی بنائی جاتی ہے اور نظام چلایا جاتا ہے۔ امیر اور ارکان شوری کاانتخاب کرتے وقت صالحیت، صلاحیت، کارکردگی، امانت و دیانت اور تنظیمی وابستگی اور امور جماعت کو چلانے کی اہلیت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کسی با اثر خاندان یہاں تک کہ امیر کے خاندان سے وابستگی کسی منصب یا ذمہ داری کے لیے کوئی معیاراور تقاضا نہیں ہے۔
تفصیل جانیے
جماعت اسلامی کا یہ امتیاز ہے کہ اس میں کسی خاندان، افراد یاکسی گروہ کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اس کی بنیاد شورائیت پر رکھی گئی ہے، جمہوری طریقے سے ہر سطح کی قیادت اور مجالس شوری کا انتخاب عمل میں آتا ہے، اور مشورے سے نظام چلایا جاتا ہے۔ یہاں کسی کو کسی سطح کے امیر کے خاندان کا فرد ہونے کی وجہ سے منصب پیش نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ اراکین آزاد مرضی سے اپنی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں جس میں للہیت، تقوی اور صالحیت و صلاحیت کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
جماعت اسلامی کے بانی امیر سید ابوالاعلی مودودیؒ نے 1941ء سے 1972ء تک امارت کی ذمہ داری نبھائی۔ میاں طفیل محمدؒ 1987ء، قاضی حسین احمدؒ 2009ء، سید منور حسن 2014ء تک امیر رہے، اس کے بعد سے اب تک سراج الحق امارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پانچوں امرا ء کا آپس میں خاندانی، زبانی یا علاقائی، کسی سطح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھے، اردو زبان بولنے والے تھے۔ میاں طفیل محمدؒ کپورتھلہ سے تھے اور مادری زبان پنجابی تھی۔ قاضی حسین احمدؒ کا تعلق نوشہرہ سے تھا، پشتو مادری زبان تھے۔ سید منور حسن دہلی میں پیدا ہوئے، اردو زبان بولنے والے تھے، جبکہ موجود امیر سراج الحق کا تعلق دیر سے ہے، اور پشتو ان کی مادری زبان ہے۔
جماعت اسلامی کا یہ امتیاز ہے کہ اس میں کوئی بھی اپنی صلاحیت اور تنظیم سے وابستگی کی بنیاد پر کسی بھی ذمہ داری پر فائز ہو سکتا ہے۔
تفصیل جانیے
جماعت اسلامی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اپنے پرائے سب اس پراعتماد کرتے ہیں اور اپنی امانتیں جماعت کے حوالے کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی جہاں کردار سازی پر یقین رکھتی ہیں، وہیں اس کے اندر احتساب کا بھی ایک نظام موجود ہے، جو خودکار طریقے سے حرکت میں آتا ہے، اور کہیں خرابی کی صورت میں اصلاح احوال کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کے اندر بھی اور باہر جہاں بھی امانتیں جماعت کے وابستگان کے حوالے کی جائیں، وہ امانت و دیانت کی مثال قائم کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ایک ہزار سے زائد وابستگان نے سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں خدمات انجام دی ہیں۔ صوبائی وزارتوں اور ضلعی نظامتوں میں نہ صرف ان کی کارکردگی مثالی رہی ہے، بلکہ قوم کی امانتوں کی رکھوالی اور ان کے درست استعمال میں انھوں نے ایک معیار قائم کیا ہے، جس کی مخالفین بھی مثال اور گواہی دیتے ہیں۔اربوں روپے کا بجٹ ان کی صوابدید پر رہامگر کوئی مخالف بھی ان پر ایک پائی کی کرپشن کا الزام نہیں لگا پایا۔ الحمدللہ جماعت اسلامی کے وابستگان ہمیشہ کرپشن اور لوٹ مار کی سیاست سے دور رہے ہیں۔ ان کا نام کسی پانامہ اور دبئی لیکس میں نہیں ہے، نہ ہی ہمیشہ پلاٹ لینے والوں اور قرض معاف کروانے والوں کی کسی فہرست میں ان کا نام آتاہے۔
تفصیل جانیے
منشور جماعت اسلامی
اسلامی پاکستان
دستور پاکستان کے مطابق قرآن وسنت ﷺ کی بالادستی قائم کی جائے گی اور قرآن و سنت سے متصادم تمام قوانین منسوخ کیے جائیں گے۔
جمہوری پاکستان
اسلام، آئین،جمہوریت اور سِول حکومت کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ کو بالادست بنایا جائے گا۔
مضبوط معیشت اور گورننس
سیاسی جماعتوں ، ماہرین معاشیات اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ’’میثاقِ معیشت ‘‘تیار کیا جائے گا۔سودی معیشت اور سُودی بنکاری کا خاتمہ کیا جائے گا۔
خوشحال صوبے
صوبوں کے قدرتی وسائل پر پہلا حق صوبوں کا ہوگا۔پورے ملک میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔
خوشحال اور محفوظ عورت
خواتین کو میٹرک تک لازمی مفت تعلیم دی جائے گی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے خواتین کومساویانہ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کو والد اور شوہر کی جائیداد سےوراثت اور ملکیت کے حقوق دلوانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کئے جائیں گے۔
خوشحال نوجوان
طلبہ یونین پر پابندی ختم کرکے تمام تعلیمی اداروں میں انتخابات کروائے جائیں گے۔
گریجویٹس کو آسان شرائط کے ساتھ لیزپر بنجر رقبہ دیا جائے گا۔
مزید جانیں
منشور ڈاؤن لوڈ کریں
خوشحال پاکستان کے لیے
جماعت اسلامی کےممبربنیں
ممبر بنیں
تازہ ترین خبریں
Muslim world must unite, take decisive action against US, Israel: Hafiz Naeemur Rehman
1ماہ پہلے
عالم اسلام کو متحد ہوکر امریکہ و اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنے کی ضرورت ہے، حافظ نعیم الرحمن
1ماہ پہلے
Quran Aims to End Systems of Oppression, Says JI Secretary General Ameerul Azeem
1ماہ پہلے
حکمران غزہ امن بورڈ سے نہ نکلے تو عوامی دباؤ سے نکالنا پڑے گا، حافظ نعیم الرحمن
1ماہ پہلے
سوات: جماعت اسلامی کی جانب سے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے خلاف احتجاجی ریلی
1ماہ پہلے
جماعت اسلامی کے تحت ایران سے اظہار یکجہتی اور امرایکہ و اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف سندھ بھرمیں پر پرامن مظاہرے
1ماہ پہلے
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر امریکہ و اسرائیل کی ایران حملے کے خلاف آبپارہ میں احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا
1ماہ پہلے
ایران پر حملہ مسلم دنیا پر حملہ ہے، تیمرگرہ میں جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ
1ماہ پہلے
JI Emir meets Qatar ambassador, discusses Gaza and Gulf situation
1ماہ پہلے
حافظ نعیم الرحمن کی قطر کے سفیر سے ملاقات، خلیج ، غزہ صورتحال پر گفتگو
1ماہ پہلے
Central point of JI’s ‘Badal Do Nizam’ movement is independence of judiciary and restoration of Constitution: Hafiz Naeemur Rehman
11دن پہلے
جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک کا بنیادی نقطہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بحالی ہے۔حافظ نعیم الرحمن
11دن پہلے
Hafiz Naeem ur Rehman urges public to join JI for change, announces outreach drive
12دن پہلے
روزانہ قرآن
روزانہ کی حدیث
اقتباس
شاہ کلید از
"سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ"
جاہلیت کے زمانے میں میں نے بہت کچھ پڑھا ہے۔ قدیم و جدید فلسفہ، سائنس
مزید پڑھیں
اقامت دین، نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا از
"سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ"
اقامت دین، نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اورا س
مزید پڑھیں
مسلمان امامت کے منصب سے کیوں معزول ہوگئے؟ از
"سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ"
مسلمان صدیوں تک قلم اور تلوار کے ساتھ فرماں روائی کرتے کرتے آخرکار ت
مزید پڑھیں
اس ملک میں حقیقی تبدیلی کے لئیے
جماعت اسلامی کے
ووٹر بنیں
ووٹر بنیں
ڈیجیٹل لائبریری
ہماری تنظیمات
تنظیمات
ادارے
پیما (PIMA)
جمعیت طلبہ عربیہ
اسلامی جمعیت طلبہ
جےآئی یوتھ
حلقہ خواتین
ترجمان القرآن
ادارہ معارف اسلامی
آفاق (AFAQ)
الخدمت فاؤنڈیشن
بیٹھک اسکول
غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ
رسائل و مسائل
حج میں جانور ذبح کرنے کا مسئلہ
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ
ذکرِ الٰہی اور اس کے طریقے
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ
ملازمین کے حقوق
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ
حضرت علیؓ کی امیدواری خلافت؟
سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ
مزید سوال و جواب
مشہور شخصیات
سراج الحق
تفصیل جانیے
خرم مرادؒ
تفصیل جانیے
ڈاکٹر نذیرشہیدؒ
تفصیل جانیے
میاں طفیل محمدؒ
تفصیل جانیے
قاضی حسین احمدؒ
تفصیل جانیے
سید منور حسنؒ
تفصیل جانیے
نعمت اللہ خانؒ
تفصیل جانیے
فارم برائے ممبر
فارم برائے ووٹر