جارج فرنانڈیز - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
مندرجات کا رخ کریں
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جارج فرنانڈیز
2002ء میں جارج فرنانڈیز
ذاتی تفصیلات
پیدائش
جارج میتھیو فرنانڈیز
3 جون
1930
1930-06-03
منگلور
مدراس پریزیڈنسی
برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
(now in
کرناٹک
بھارت
وفات
29 جنوری 2019ء
(2019-01-29)
(88 سال)
نئی دہلی
، بھارت
جماعت
سمتا منچ
شریک حیات
لیلا کبیر
Source:
[1]
جارج میتھیو فرنانڈیز
(جنم 3 جون 1930ء - 29 جنوری 2019ء)
بھارت
کے ایک صنعتی اتحاد پسند، سیاست دان،
صحافی
، ماہر زراعت اور
بہار
سے
راجیہ سبھا
کے رکن تھے۔
نیز وہ
جنتا دل
کے کلیدی رکن اور
سمتا پارٹی
کے بانی بھی تھے۔ علاوہ ازیں جارج فرنفرنانڈیز بھارت کی حکومتوں میں وزیر برائے مواصلات، صنعت، ریلوے اور دفاع کے مناصب پر بھی فائز رہے۔
وہ
منگلور
کے باشندے تھے۔ سنہ 1946ء میں پادری کی تربیت حاصل کرنے
بنگلور
گئے۔ سنہ 1949ء میں وہ
بمبئی
منتقل ہوئے، جہاں انھوں نے سوشلسٹ ٹریڈ یونین موومنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ فرنانڈیز نے ٹریڈ یونین لیڈر بننے کے بعد اور بھارتی ریل کے ساتھ کام کرنے کے دوران میں 1950ء و 1960ء کے عشروں میں بمبئی میں کئی ہڑتالوں اور احتجاجوں کی قیادت کی۔ انھوں نے سنہ 1967ء کے پارلیمانی انتخابات میں حلقہ بمبئی جنوبی (اب ممبئی جنوبی) سے ایس کے پاٹل کو شکست دی۔ سنہ 1974ء میں بھی انھوں نے ہڑتال کا انتظام کیا، اُس وقت وہ آل انڈیا ریلوے مینز فیڈریشن کے صدر تھے۔ فرنانڈیز نے 1975ء کی
ہنگامی صورت حال
کے دوران میں خفیہ طور پر مہم چلائی،
سنہ 1976ء میں بدنام بروڈا ڈائنامائیٹ کیس میں انھیں گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا گیا۔
سنہ 1977ء میں ہنگامی صورت حال ہٹا دی گئی، فرنانڈیز نے بہار سے لوک سبھا کی نشست جیت لی پھر ان کو مرکزی وزیر برائے صنعت کے طور پر نامزد کیا گیا۔ مرکزی وزیر کے طور پر اپنی مدت کے دوران میں انھوں نے امریکی کثیر القومی کمپنیوں
آئی بی ایم
اور
کوکا کولا
کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا کیونکہ انھوں نے سرمایہ کاری کی خلاف ورزیاں کی تھیں۔ بطور وزیر ریل (1989ء سے 1990ء تک) انھوں نے
کوکن ریلوے
جیسے منصوبوں پر کام کیا۔ وہ
قومی جمہوری اتحاد
(این ڈی اے) حکومت (1998ء–2004ء) کے دور میں وزیر دفاع تھے۔ اس وقت پاک بھارت
کارگل جنگ
چھڑی ہوئی تھی اور بھارت نے پوکھرن میں نیوکلیئر تجربے کیے تھے۔ تجربہ کار سوشلسٹ فرنانڈیز کچھ تنازعات میں بھی پھنسے دکھائی دیے، جن میں براک میزائل اسکینڈل اور تہلکہ جیسے امور سرفہرست ہیں۔ جارج فرنانڈیز نے سنہ 1967ء سے سنہ 2004ء تک لوک سبھا کے نو انتخابات جیتے۔
جارج نے 29 جنوری 2019ء کو 88 سال کی عمر میں وفات پائی۔
ابتدائی زندگی
ترمیم
جارج فرنانڈیز 3 جون 1930ء کو کاتھولک والدین جان جوزف فرنانڈیز اور ایلس مارتھا فرنانڈیز (سابقہ پنٹو) کے ہاں
منگلور
میں پیدا ہوئے۔
وہ چھ بچوں میں سے بڑے تھے۔
لارینس
مائیکل
، پال، ایلوسیس اور رچرڈ ان کے بہن بھائی ہیں۔ ان کی والد
جارج پنجم
کی بہت بڑی مداح تھیں اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ جارج بھی 3 جون کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پیئرلیس فائنانس گروپ کے انشیورنس ایگزیکٹو تھے اور ان کے
جنوبی ہندوستان
کے دفتر کے کچھ سالوں تک سربراہ بھی رہے۔ جارج کو پیار سے رشتہ داروں میں ”جیری“ کہا جاتا تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گھر کے قریب واقع ”بورڈ اسکول “ نامی ادارے سے پائی جو ایک میونسپل اسکول اور چرچ اسکول تھا۔
10
انھوں نے پانچویں کلاس کی تعلیم سینٹ ایلوسیس کالج، منگلور سے مکمل کی جہاں سے انھوں نے سیکنڈری اسکول لِیونگ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔
ای ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ میٹرک کے بعد تعلیم چھوڑنا چاہتے تھے مگر ان کے والد کی خواہش تھی کہ پڑھ لکھ کر وکیل بنیں۔
10
ان کا ماننا تھا کہ وہ وکیل نہیں بننا چاہتے اور نہ اپنے والد کے مقدمات لڑنا چاہتے ہیں جس میں وہ اکثر کرایہ داروں کو زمین کے ٹکڑے سے نکالتے تھے، منگلور کے مضافات میں جس کے وہ مالک تھے۔ اس کی بجائے انھوں نے پادری بننے کے لیے سیمینری میں داخلہ لیا۔
10
وہ سولہ سال کی عمر میں بینگلور میں واقع سینٹ پیٹرز سیمینری میں رومن کاتھولک پادری بننے کی ترتیب حاصل کرنے گئے جہاں انھوں نے ساڑھے دو سالوں 1946ء سے 1948ء تک فلسفہ پڑھا۔
11
12
تنگ آکر انیس برس کی عمر میں انھیں سیمینری چھوڑ دی کیونکہ ان کہنا تھا کہ ریکٹر (گرجے کا متولی) سیمینری کے اراکین سے زیادہ اچھا کھاتے اور اوچے میزوں پر بیٹھتے ہیں۔
13
وہ مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے تھے لیکن انھوں نے مذہب رد کیا اور سیمینری سے بھاگ گئے اور وہ
ملحد
بن گئے۔
14
منگلور میں انھوں نے ریستورانوں اور ہوٹلوں میں کام کیا۔
15
16
حوالہ جات
ترمیم
Reddy 1977
, p. 144 "(i) Accused George Mathew Fernandes (hereinafter referred to as George Fernandes Al) was the former Chairman of the Socialist Party of India and also the President of the All India Railway- men's Federation."
Surender Sharma (1 جولائی 2010)۔
"By George! It's out on the street"
میڈ ڈے
۔ 2012-03-02 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2010-09-03
As if it had not earned enough bad name and publicity for one of the most veteran politicians and trade unionist George Fernandes, claimants to his legacy slug it out in streets on Wednesday.
"Biographical Sketch (Member of Parliament: 13th Lok Sabha)"
بھارتی پارلیمان
۔ 12 اگست 2010 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 ستمبر 2010
{{
حوالہ ویب
}}
نامعلوم پیرامیٹر
|deadurl=
رد کیا گیا (
معاونت
"Shri George Fernandes General Information"
Government of Bihar
۔ 22 July 2011 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
3 September
2010
{{
حوالہ ویب
}}
نامعلوم پیرامیٹر
|deadurl=
رد کیا گیا (
معاونت
"Fernandes: Popular but controversial minister"
برطانوی نشریاتی ادارہ
۔ 15 مارچ 2001۔ 3 March 2012 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
3 September
2010
{{
حوالہ خبر
}}
نامعلوم پیرامیٹر
|deadurl=
رد کیا گیا (
معاونت
"Why despite several controversial moves, George Fernandes continues to inspire us"
www.dailyo.in
"The loneliness of George Fernandes"
۔ 21 اپریل 2009 – بذریعہ www.thehindu.com
Richie Lasrado۔
"A Knight in Shining Armour (A profile of union defence minister George Fernandes)"
Daijiworld Media Pvt Ltd Mangalore
۔ 28 June 2009 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
1 January
2010
{{
حوالہ خبر
}}
نامعلوم پیرامیٹر
|deadurl=
رد کیا گیا (
معاونت
"Kuch lamhe fursat ke - George Fernandes, a life"۔ E TV۔ 27 مارچ 2015
Fernandes & Mathew 1991
, p. xi
Fernandes & Mathew 1991
, p. 200
Ghosh 2007
, p.
85
Wife-Son vs Jaya Jaitly vs Brothers: George Fernandes Remained Unaware of Fight for His Legacy
, NEws 18, 29 Jan 2019.
Fernandes & Mathew 1991
, p. 11
Fernandes & Matthew 1991
, p. 212
وزارت ریل، حکومت ہند
John Matthai
N. Gopalaswami Ayyangar
لال بہادر شاستری
جگجیون رام
Swaran Singh
H. C. Dasappa
S. K. Patil
C. M. Poonacha
Ram Subhag Singh
Panampilly Govinda Menon
گلزاری لال نندا
K. Hanumanthaiah
T. A. Pai
Lalit Narayan Mishra
Kamalapati Tripathi
Madhu Dandavate
Kedar Pandey
Prakash Chandra Sethi
A. B. A. Ghani Khan Chowdhury
بنسی لال
محسنہ قدوائی
مادھوراؤ سندھیا
جارج فرنانڈیز
Janeshwar Mishra
C. K. Jaffer Sheriff
رام ولاس پاسوان
نتیش کمار
Ram Naik
ممتا بنرجی
لالو پرساد یادو
Dinesh Trivedi
Mukul Roy
سی پی جوشی
Pawan Kumar Bansal
ملیکارجن کھرگے
D. V. Sadananda Gowda
سوریش پربھو
پیوش گویل
اشونی ویشنو
(incumbent)
اخذ کردہ از «
زمرہ جات
1930ء کی پیدائشیں
3 جون کی پیدائشیں
نامعلوم پیرامیٹرز استعمال کرنے والے صفحات
2019ء کی وفیات
بارہویں لوک سبھا کے ارکان
بنگلور کے سیاست دان
بھارت کے وزرائے دفاع
بھارت کے وزرائے ریل
بھارت میں ریاستی جنازے
بھارت میں ہنگامی صورت حال کے دوران میں قید بھارتی
بھارتی ملحدین
بہار سے راجیہ سبھا کے ارکان
بہار سے لوک سبھا کے ارکان
تیرہویں لوک سبھا کے ارکان
جنتا پارٹی کے سیاست دان
جنتا دل کے سیاست دان
چوتھی لوک سبھا کے ارکان
چودہویں لوک سبھا کے ارکان
چھٹی لوک سبھا کے ارکان
دسویں لوک سبھا کے ارکان
سابقہ بھارتی مسیحی
سابقہ رومن کاتھولک
ساتویں لوک سبھا کے ارکان
سمتا پارٹی کے سیاست دان
عوامی امور میں پدم وبھوشن کے وصول کنندگان
کرناٹک کے سیاست دان
کرناٹک کے صحافی
گیارہویں لوک سبھا کے ارکان
منگلور کے سیاست دان
مہاراشٹر سے لوک سبھا کے ارکان
نویں لوک سبھا کے ارکان
وی پی سنگھ انتظامیہ
ہندوستانی رومی کاتھولک شخصیات
جنتا دل (متحدہ) کے سیاست دان
بھارت کے وزیر تجارت اور صنعت
ہندوستانی صحافی
پوشیدہ زمرہ جات:
سانچے میں دوہرے آرگومنٹ کے حامل صفحات
حوالہ جات میں غلطیوں کے ساتھ صفحات
نقائص حوالہ: نامعلوم پیرامیٹر
اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: غیر آرکائیو شدہ روابط پر مشتمل حوالہ جات
سانچہ خانہ معلومات استعمال کرنے والے مضامین
کامنز زمرہ جس کا ربط ویکی ڈیٹا پر ہے
ویکی ڈیٹا سے مختلف مختصر وضاحت
جارج فرنانڈیز
نیا موضوع
US