اردو - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
مندرجات کا رخ کریں
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اردو
اردوئے معلیٰ
"اردو"
نستعلیق
میں لکھا گیا
دیس
پاکستان
اور
بھارت
اہل زبان
6 کروڑ 5 لاکھ (80% بھارت میں) (2007)ne2007
زبان دوم: 14 کروڑ 4 لاکھ
پاکستان
میں (2011)۔
لسانی خاندان
ہند۔یورپی
ہند ایرانی
ہند۔آریائی
مرکزی ہند-آریائی
مغربی ہندی
کھڑی بولی
اردو-ہندی
اردو
نظام تحریر
فارسی-عربی رسم الخط
اردو حروف تہجی
دیو ناگری
رسم الخط
(19ویں شتک کے آخر تک)
بھارتی اردو بریل
پاکستانی اردو بریل
رومن اردو
اشاری شکلیں
بھارتی اشارتی نظام (ISS)
اشارتی اردو
سرکاری حیثیت
سرکاری زبان
پاکستان
بھارت
ریاستیں
اور
یونین علاقہ
بہار
دہلی
(قومی
دار الحکومت
علاقہ)
جموں و کشمیر
اتر پردیش
جھارکھنڈ
مغربی بنگال
(علاقے جہاں اردو بولنے والے دس فیصد سے زیادہ ہیں)
تلنگانہ
مقتدرہ
ادارہ فروغ قومی زبان
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
رموزِ زبان
آیزو 639-1
ur
آیزو 639-2
urd
آیزو 639-3
urd
گلوٹولاگ
urdu1245
دائرۂ لسانیات
59-AAF-q
وہ خطے جہاں اردو کو سرکاری یا مقامی زبان کا درجہ حاصل ہے
(دیگر)علاقے جہاں صرف ایک علاقائی زبان سرکاری ہے
ویکیپیڈیا
، آزاد دائرۃ المعارف
اردو
میں
اُردُو،
برصغیر
پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ
پاکستان
کی قومی اور
رابطہ عامہ کی زبان
ہے، جبکہ
بھارت
کی چھ ریاستوں کی
دفتری زبان
کا درجہ رکھتی ہے۔
آئین ہند
کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت شدہ زبانوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔
2001ء کی مردم شماری کے مطابق اردو کو بطور
مادری زبان
بھارت میں 5.01 فیصد لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے ہی بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان 9.25 فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں، یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔
اردو تاریخی طور پر
ہندوستان
کی
مسلم
آبادی سے جڑی ہے۔
زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے
فارسی
کی بجائے
انگریزی
کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور
جموں و کشمیر
میں اسے 1846ء اور
پنجاب
میں 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ اس کے علاوہ
خلیجی
یورپی
، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو بنیادی طور پر
جنوبی ایشیاء
سے کوچ کرنے والے اہلِ اردو ہیں۔ 1999ء کے اعداد و شمار کے مطابق اردو زبان کے مجموعی متکلمین کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔ اردو زبان کو کئی ہندوستانی ریاستوں میں سرکاری حیثیت بھی حاصل ہے۔
نیپال
میں، اردو ایک رجسٹرڈ علاقائی بولی ہے
اور
جنوبی افریقہ
میں یہ آئین میں ایک محفوظ زبان ہے۔ یہ
افغانستان
اور
بنگلہ دیش
میں اقلیتی زبان کے طور پر بھی بولی جاتی ہے، جس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔
1837ء میں، اردو
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی
کی سرکاری زبان بن گئی،
کمپنی کے دور
میں پورے شمالی ہندوستان میں فارسی کی جگہ لی گئی۔ فارسی اس وقت تک مختلف
ہند-اسلامی سلطنتوں
کی درباری زبان کے طور پر کام کرتی تھی۔
10
یورپی نوآبادیاتی دور
میں مذہبی، سماجی اور سیاسی عوامل پیدا ہوئے جنھوں نے اردو اور
ہندی
کے درمیان فرق کیا، جس کی وجہ سے
ہندی-اردو تنازعہ شروع ہوا
اٹھارویں صدی میں اردو ایک ادبی زبان بن گئی اور اس کی دو معیاری شکلیں
دہلی
اور
لکھنؤ
میں وجود میں آئیں۔ 1947ء میں
تقسیم ہند کے
بعد سے پاکستانی شہر
کراچی
میں ایک تیسرا معیار پیدا ہوا ہے۔
11
12
دکنی
، ایک پرانی اردو کی شکل ہے جو
دکن
میں استعمال ہوتی تھی، سولہویں صدی تک
دکن سلاطین
کی درباری زبان بن گئی۔
13
12
اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو
نستعلیق
رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور
عربی
و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ ہندی زبان
دیوناگری
رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور
سنسکرت
الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو زبان سے نکلی ہے۔ اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔ اردو زبان
دنیا
کی نئی زبانوں میں سے ہونے کے باوجود اپنے پاس معیاری اور وسیع ذخیرہ
ادب
رکھتی ہے۔ خاص کر جنوب ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی
شاعری
کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔
تسمیہ
اردو
اور
ہندوستانی
یہ دو الفاظ 20ویں صدی کی پہلی تین دشکوں تک ہم معانی ہوئی کرتی تھیں.
اردو
کا نام سب سے پہلے شاعر
غلام ہمدانی مصحفی
نے 1780ء کے آس پاس
ہندوستانی زبان
کے لیے استعمال کیا تھا۔
14
حالانکہ اس نے خود بھی اپنی شاعری میں زبان کی تعریف کے لیے
ہندوی
اصطلاح استعمال کی تھی۔
15
اردو
کا مطلب
ترک زبان
میں فوج ہے۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں، اسے
زبانِ اُرْدُوئے مُعَلّٰی
کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کا مطلب
بلند کیمپ کی زبان ہے
16
17
18
پہلے اسے ہندوی، ہندی، ہندوستانی اور
ریختہ
کے نام سے جانا جاتا تھا۔
14
19
تاریخ
تفصیلی مضمون کے لیے
اردو کی ابتداء کے متعلق نظریات
ملاحظہ کریں۔
نستعلیق خطاطی پر لشکری زبان کا عنوان
اردو
ہندی زبان
کی طرح فارسی، عربی، ترک زبان کی ایک قسم ہے۔
20
21
یہ
شورسینی زبان
(یہ زبان وسطی ہند آریائی زبان تھی جو موجودہ کئی زبانوں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، ان میں
پنجابی زبان
بھی شامل ہے) کی ذیلی قسم کے طور پر اپ بھرنش سے
قرون وسطٰی
(چھٹی سے تیرھویں صدی) کے درمیان وجود میں آئی۔
22
23
اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ
ہریانوی زبان
سے شروع ہوئی۔
24
تیرھویں صدی سے انیسویں صدی کے آخر تک اردو زبان کو بیک وقت
ہندی
25
ہندوستانی
اور
ہندوی
کہا جاتا تھا۔
26
اگرچہ لفظ اردو بذات خود ترک زبان کے لفظ اوردو (لشکر، فوج) یا اوردا سے نکلا ہے، اسی سے انگریزی لفظ
horde
کا ظہور ہوا، تاہم ترک زبان سے اردو میں کم ہی الفاظ آئے ہیں۔ عرب اور ترک الفاظ اردو میں پہنچ کر فارسی قسم کے بن گئے ہیں، جیسے ة کو اکثر اوقات ہ میں بدل دیا جاتا ہے۔ مثلاً عربی تائے مربوطہ (ة) کو (ہ) یا (ت) میں بدل دیا جاتا ہے۔
بھلے آج کے دور میں
اردو
کو ایک مستقل زبان کی شناخت حاصل ہے لیکن عظیم اردو قلمکار اُنیسویں صدی کی کچھ ابتدائی دہائیوں تک اردو زبان کو
ہندی
یا
ہندوی
کی شکل میں ظاہر کرتے رہے ہیں۔
27
جیسے غلام حمدان مصحفی نے اپنی ایک
شاعری میں لکھا ہے: -
مصحفی فارسی کو طاق پہ رکھ،
اب ہیں
اشعارِ ہندوی
کا رواج
28
اور شاعر
مير تقی میر
نے کہا ہے:
نہ جانے لوگ کہتے ہے کس کو سرورِ قلب،
آیا نہیں یہ لفظ تو
ہندی
زبان کے بیچ
29
نستعلیق رسم الخط
میں لکھا ہوا جملہ زبانِ
اردو مُلّا
("بلند کیمپ زبان")
اردو زبان کو ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ منصوب کیا جاتا ہے اور اسی حوالے سے کئی نظریات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ممتاز محقق
حافظ محمود شیرانی
کے نزدیک یہ زبان
محمود غزنوی
کے حملہ ہندوستان کے ادوار میں
پنجاب
میں پیدا ہوئی، جب فارسی بولنے والے سپاہی پنجاب میں بس گئے، نیز ان کے نزدیک یہ فارسی متکلمین دہلی فتح کرنے سے قبل دو سو سال تک وہیں آباد رہے، یوں پنجابی اور فارسی زبانوں کے اختلاط نے اردو کو جنم دیا، پھر ایک آدھ صدی بعد جب اس نئی زبان کا آدھا گندھا خمیر دہلی پہنچا تب وہاں اس نے مکمل زبان کی صورت اختیار کی، اس حوالے سے انھوں نے پنجابی اور اردو زبان میں کئی مماثلتیں بھی پیش کی ہیں۔ شیرانی کے اسی نظریہ کو
پنجاب میں اردو
نامی مقالے میں لکھا گیا، جس نے اردو زبان دانوں میں کافی
شہرت
پائی اور اسی کو دیکھ کر بہت سے محققین نے اردو کے آغاز کو مسلمانوں کی آمد سے جوڑنا شروع کر دیا، اس طرح "دکن میں اردو"، "
گجرات
میں اردو"، "
سندھ
میں اردو"، "
بنگال
میں اردو "حتیٰ کہ "
بلوچستان
میں اردو" کے نظریات بھی سامنے آنے لگے۔ (حقیقتاً شیرانی سے قبل بھی سنیت کمار چترجی،
محی الدین قادری زور
جیسے بعض محققین اردو پنجابی تعلق کے بارے میں ایسے خیالات رکھتے تھے، البتہ اسے ثابت کرنے میں وہ دوسروں سے بازی لے گئے) حافظ شیرانی کے نظریہ کی مخالفت کرنے والوں میں
مسعود حسین خان
اور سبزواری جیسے محققین شامل ہیں، جنھوں نے ان کے نظریے کو غلط ثابت کیا۔
برطانوی راج
میں فارسی کی بجائے ہندوستانی کو فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور ہندو مسلم دونوں اس پر عمل کرتے تھے۔ لفظ اردو کو شاعر
غلام ہمدانی مصحفی
نے 1780ء کے آس پاس سب سے پہلے استعمال کیا تھا۔ انھوں نے خود اپنی شاعری میں زبان کی تعریف کے لیے
ہندوی
لفظ بھی استعمال کیا۔
30
تیرہویں سے اٹھارویں صدی تک اردو کو عام طور پر
ہندی
ہی کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ اسی طرح اس زبان کے کئی دوسرے نام بھی تھے، جیسے ہندوی، ریختہ یا دہلوی۔ اردو اسی طرح علاقائی زبان بنی رہی، پھر 1837ء میں فارسی کی بجائے اسے انگریزی کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو زبان کو برطانوی دور میں انگریزوں نے ترقی دی، تاکہ فارسی کی اہمیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس وجہ سے شمال مشرقی ہندوستان کے ہندوؤں میں تحریک اٹھی کہ فارسی رسم الخط کی بجائے اس زبان کو مقامی دیوناگری
رسم الخط
میں لکھا جانا چاہیے۔ نتیجتاً ہندوستانی کی نئی قسم ہندی کی ایجاد ہوئی اور اس نے 1881ء میں
بہار
میں نافذ ہندوستانی کی جگہ لے لی۔ اس طرح اس مسئلہ نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستانی کو دو زبانوں اردو (برائے مسلم) اور ہندی (برائے ہندو) میں تقسیم کر دیا۔ اور اسی فرق نے بعد میں ہندوستان کو دو حصوں بھارت اور پاکستان میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا (اگرچہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے ہندو شعرا و مصنفین اردو زبان سے جڑے رہے، جن میں معروف
منشی پریم چند
گلزار
گوپی چند نارنگ
اور آزاد وغیرہ شامل ہیں۔)
ابتدائی تاریخ
غالب کے اردو دیوان کے ابتدائی صفحات، 1821
ہندوستان کے دہلی کے علاقے میں مقامی زبان
کھوری بولی
تھی، جس کی ابتدائی شکل
پرانی ہندی
(یا ہندوی) کے نام سے جانی جاتی ہے۔
31
32
33
34
اس کا تعلق وسطی ہند آریائی زبانوں کے مغربی ہندی زبان سے ہے۔
35
36
37
دہلی جیسے شہروں میں،
قدیم ہندی
اور
فارسی
کا اثر و رسوخ تھا اور اسے "ہندوی" اور بعد میں "ہندوستانی" بھی کہا جانے لگا۔
38
39
40
41
42
ہندوی کی ایک ابتدائی ادبی روایت کی بنیاد
امیر خسرو
نے تیرھویں صدی کے آخر میں رکھی تھی۔
43
44
45
46
دکن کی فتح کے بعد اور اس کے بعد عظیم مسلم خاندانوں کی جنوب میں ہجرت کے بعد، زبان کی ایک شکل
قرون وسطی کے ہندوستان
میں شاعری کے طور پر پروان چڑھی۔
47
اور اسے دکنی کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں
تیلگو زبان
اور
مراٹھی زبان
کے الفاظ شامل ہیں۔
48
49
50
تیرھویں صدی سے اٹھارویں صدی کے آخر تک جو زبان اب اردو کے نام سے جانی جاتی ہے اسے
ہندی
51
ہندوی
ہندوستانی
52
دہلوی
53
لاہوری
اور
لشکری
کہا جاتا تھا۔
54
دہلی سلطنت نے
فارسی کو
ہندوستان میں اپنی سرکاری زبان کے طور پر قائم کیا، یہ پالیسی
مغل سلطنت
کی طرف سے جاری رہی، جس نے سولہویں سے اٹھارویں صدی تک شمالی
جنوبی ایشیا
کے بیشتر حصوں میں توسیع کی اور ہندوستانی پر
فارسی
اثر کو مضبوط کیا۔
55
56
خان آرزو کے نوادر الفاز کے مطابق، "زبانِ اردو شاہی"
57
کو
عالمگیر
کے زمانے میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ 1700ء کی دہائی کے اوائل میں
اورنگزیب عالمگیر
کے دورِ حکومت کے اختتام تک، دہلی کے آس پاس کی عام زبان کو
زبانِ اردو
کہا جانے لگا،
58
یہ نام
ترک زبان
کے لفظ
اوردو
(فوج) یا
اوردا
سے ماخوذ ہے اور کہا جاتا ہے۔ "کیمپ کی زبان" کے طور پر پیدا ہوا ہے یا
زبانِ اردو
کا مطلب ہے: "
اونچے کیمپوں کی زبان
59
یا مقامی طور پر "
لشکری زبان
" کا مطلب ہے "
فوج کی زبان

60
اگرچہ
اردو
کی اصطلاح مختلف ہے۔ اس وقت کے معنی
61
یہ ریکارڈ کیا گیا ہے کہ اورنگزیب عالمگیر ہندوی زبان میں بولتا تھا، جو غالباً فارسی زبان میں تھی، کیونکہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ہندوی اس دور میں فارسی رسم الخط میں لکھی گئی تھی۔
62
اس عرصے کے دوران اردو کو "مورس" کہا جاتا تھا، جس کا مطلب صرف مسلمان تھا،
63
یورپی مصنفین نے
64
جان اوونگٹن نے 1689ء میں لکھا:
65
موروں کی زبان ہندوستان کے قدیم اصلی باشندوں سے مختلف ہے لیکن اپنے کرداروں کے لیے ان غیر قوموں کی پابند ہے۔ کیونکہ اگرچہ
مورز بولی
اپنے لیے مخصوص ہے، پھر بھی اس کے اظہار کے لیے خطوط سے محروم ہے۔ اور اس لیے، اپنی مادری زبان میں اپنی تمام تحریروں میں، وہ اپنے خطوط ہیتھنز یا فارسیوں یا دیگر اقوام سے مستعار لیتے ہیں۔
1715 میں ریختہ میں ایک مکمل ادبی دیوان نواب صدرالدین خان نے لکھا۔
66
ایک اردو فارسی لغت خان آرزو نے 1751ء میں
احمد شاہ بہادر
کے دور میں لکھی تھی۔
67
اردو
کا نام سب سے پہلے شاعر
غلام ہمدانی مصحفی
نے 1780ء کے آس پاس متعارف کرایا تھا
68
ایک ادبی زبان کے طور پر اردو نے درباری، اشرافیہ کے ماحول میں شکل اختیار کی۔
69
جبکہ اردو نے مقامی ہندوستانی بولی کھڑ بولی کی گرامر اور بنیادی ہند آریائی الفاظ کو برقرار رکھا، اس نے
نستعلیق
تحریری نظام کو اپنایا
70
71
– جسے فارسی خطاطی کے انداز کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔
72
دیگر تاریخی نام
اردو زبان کی پوری تاریخ میں، اردو کو کئی دوسرے ناموں سے بھی جانا گیا ہے: ہندی، ہندوی، ریختہ، اردو-ملا،
دکھینی
، مورس اور
دہلوی
وغیرہ۔ 1773 میں سوئس فرانسیسی سپاہی اینٹون پولیئر نے نوٹ کیا کہ انگریزوں نے اردو کے لیے "مورس" کا نام استعمال کرنا پسند کیا:
73
مجھے
ہندوستان کی عام زبان کے بارے میں گہرا علم ہے، جسے انگریز
مورس
کہتے ہیں اور اس سرزمین کے باشندے ہیں۔
اشرف جہانگیر سمنانی
جیسے صوفی مصنفین کی کئی تخلیقات نے اردو زبان کے لیے اسی طرح کے نام استعمال کیے ہیں۔ شاہ
عبدالقادر رائے پوری
پہلے شخص تھے جنھوں نے قرآن مجید کا اردو میں ترجمہ کیا۔
74
شاہ جہاں
کے زمانے میں دار الحکومت کو دہلی منتقل کر دیا گیا اور اس کا نام
شاہجہان آباد
رکھا گیا اور اس قصبے کے بازار کا نام اردوئے معلیٰ رکھا گیا۔
75
76
نوآبادیاتی دور میں اردو
نوآبادیاتی انتظامیہ میں اردو کو معیاری بنانے سے پہلے، برطانوی افسران اکثر اس زبان کو "مُور" کہتے تھے۔
جان گلکرسٹ
برطانوی ہندوستان میں پہلے شخص تھے جنھوں نے اردو پر ایک منظم مطالعہ شروع کیا اور "ہندوستانی" کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی جسے یورپیوں کی اکثریت "مُور" کہتی تھی۔
77
بعد میں برطانوی پالیسیوں کے ذریعے
نوآبادیاتی ہندوستان
میں اردو کو فروغ دیا گیا تاکہ فارسی پر سابقہ زور کا مقابلہ کیا جا سکے۔ نوآبادیاتی ہندوستان میں، "انیسویں صدی میں
متحدہ صوبوں
میں عام مسلمان اور ہندو یکساں طور پر ایک ہی زبان بولتے تھے، یعنی ہندوستانی، خواہ اس نام سے پکارا جائے یا ہندی، اردو یا
برج
یا
اودھی
جیسی علاقائی بولیوں میں سے ایک۔"
78
مسلم برادریوں کے اشراف کے ساتھ ساتھ ہندو اشراف کی ایک اقلیت، جیسا کہ ہندو نسل کے
منشی
79
نے عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں فارسی عربی رسم الخط میں زبان لکھی، حالانکہ ہندو بعض ادبیات میں دیوناگری رسم الخط کو استعمال کرتے رہے۔ اور مذہبی سیاق و سباق۔
78
80
انیسویں صدی کے آخر تک، لوگ اردو اور ہندی کو دو الگ الگ زبانوں کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، حالانکہ شہری علاقوں میں، معیاری ہندستانی زبان کو تیزی سے اردو کہا جاتا تھا اور فارسی عربی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ اردو اور انگریزی نے 1837ء میں ہندوستان کے شمالی حصوں میں فارسی کو سرکاری زبانوں کے طور پر بدل دیا
81
نوآبادیاتی ہندوستانی اسلامی اسکولوں میں، مسلمانوں کو
ہند اسلامی تہذیب
کی زبانوں کے طور پر فارسی اور عربی پڑھائی جاتی تھی۔ انگریزوں نے ہندوستانی مسلمانوں میں خواندگی کو فروغ دینے اور انھیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے ان سرکاری تعلیمی اداروں میں فارسی عربی رسم الخط میں لکھی ہوئی اردو پڑھانا شروع کی اور اس وقت کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں اردو کو بطور خاص نظر آنے لگا۔
78
شمال مغربی ہندوستان میں ہندوؤں نے،
آریہ سماج
کے تحت فارسی عربی رسم الخط کے استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور دلیل دی کہ زبان کو مقامی
دیوناگری
رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے،
82
جس نے دیوناگری میں لکھی گئی ہندی کے استعمال کو جنم دیا۔ انجمن اسلامیہ لاہور
82
دیوناگری رسم الخط میں ہندی اور فارسی-عربی رسم الخط میں لکھی گئی اردو نے مسلمانوں کے لیے "اردو" اور ہندوؤں کے لیے "ہندی" کی فرقہ وارانہ تقسیم قائم کی، یہ تقسیم
تقسیمِ ہند
کا باعث بھی بنی، جس کے بعد مسلمانوں کا ایک نیا ملک پاکستان، وجود میں آیا جس کی قومی زبان اردو بنی (حالانکہ ایسے ہندو شاعر اب بھی ہیں جو اردو میں لکھتے رہتے ہیں، مثلاً
گوپی چند نارنگ
اور
گلزار

83
84
تقسیم کے بعد
اردو بلحاظ ملک و علاقہ جات
افریقا
موریشس
ایشیا
ایران
بنگلہ دیش
بھارت
پاکستان
ترکی
چین
جاپان
قطر
کرغیزستان
متحدہ عرب امارات
میانمار
نیپال
سری لنکا
یورپ
برطانیا
ڈنمارک
جرمنی
چیک جمہوریہ
روس
سویٹزرلینڈ
سویڈن
فرانس
ناروے
امریکین
ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو
سرینام
کینیڈا
گیانا
اوقیانوسیہ
آسٹریلیا
فجی
باب اردو زبان
متحدہ عرب امارات
میں
عربی
، انگریزی اور اردو میں سہ زبانی
سائن بورڈ
۔ اردو جملہ انگریزی کا براہ راست ترجمہ نہیں ہے ("آپ کا خوبصورت شہر آپ کو اسے محفوظ رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔" ) یہ کہتا ہے، "اپنی شہر کی خوشصورتی کو برقرار رکھیے یا "براہ کرم اپنے شہر کی خوبصورتی کو محفوظ رکھیں۔"
اردو کو
بمبئی پریزیڈنسی
بنگال
صوبہ اڑیسہ
85
اور
ریاست حیدرآباد
کے نوآبادیاتی ہندوستانی مصنفین کے لیے بطور ادبی ذریعہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
86
1973 میں، اردو کو پاکستان کی واحد قومی زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔
87
1979 میں
افغانستان پر سوویت یونین کے حملے
اور اس کے بعد لاکھوں
افغان مہاجرین
کی آمد کے بعد جو کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں،
88
نے بھی ہندی-اردو میں عبور حاصل کر لیا۔ ہندوستانی میڈیا خاص طور پر ہندی-اردو
بالی ووڈ
فلمیں اور گانے اردو زبان میں ہوتے ہیں۔
89
90
اردو کو
پراکرت
اور
سنسکرت
کے مقامی الفاظ سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ہندی کو فارسی کے الفاظ سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے - نئی لغت بنیادی طور پر فارسی اور عربی سے اردو کے لیے اور سنسکرت سے ہندی سے نکالی گئی ہے۔
91
92
انگریزی نے ایک مشترکہ سرکاری زبان کے طور پر دونوں پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔ بروس (2021ء) کے مطابق، اٹھارویں صدی سے اردو نے انگریزی الفاظ کو ڈھال لیا ہے۔
93
پاکستان میں 1947ء میں اپنی آزادی کے بعد سے ایک اردو کی ہائپر فارسائزیشن کی طرف ایک تحریک ابھری جو ہندوستان میں ابھرنے والی ہائپر سنسکرت زدہ ہندی کی طرح "مصنوعی" ہے۔
94
ہندی کے بڑھتے ہوئے سنسکرتائزیشن سے کچھ حد تک اردو کی ہائپر فارسائزیشن کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
95
پاکستان میں روزمرہ کی بنیاد پر بولی جانے والی اردو کا انداز غیر جانبدار ہندستانی کے مشابہ ہے جو برصغیر کے شمالی حصے کی
زبان
ہے۔
96
97
1977 کے بعد سے،
98
صحافی
خشونت سنگھ
جیسے کچھ مبصرین نے اردو کو "مرتی ہوئی زبان" قرار دیا ہے، حالانکہ دیگر، جیسے کہ ہندوستانی شاعر اور مصنف
گلزار
(جو دونوں ممالک میں مقبول ہیں، نے اس تشخیص سے اختلاف کیا اور کہا کہ اردو ہندوستان میں "سب سے زندہ زبان ہے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے"۔
99
100
101
98
102
103
104
یہ رجحان دیگر زبانوں کے بولنے والوں کے مقابلے میں مقامی اردو بولنے والوں کی نسبتاً اور مطلق تعداد میں کمی سے متعلق ہے۔
105
106
اردو کے فارسی عربی رسم الخط، اردو ذخیرہ الفاظ اور گرامر کے بارے میں کم ہوتی ہوئی (جدید) علم؛
105
107
اردو سے اور ادب کے ترجمے اور نقل کا کردار۔
105
اردو کی بدلتی ثقافتی تصویر اور اردو بولنے والوں کے ساتھ منسلک سماجی و اقتصادی حیثیت (جس سے دونوں ممالک میں خاص طور پر ان کے روزگار کے مواقع پر منفی اثر پڑتا ہے)،
107
105
اردو کی
قانونی
حیثیت اور
حقیقی
سیاسی حیثیت،
107
اردو کو تعلیم کی زبان کے طور پر کتنا استعمال کیا جاتا ہے اور طلبہ نے اعلیٰ تعلیم میں اس کا انتخاب کیا ہے،
107
105
106
104
اور کس طرح اردو کی دیکھ بھال اور ترقی کو حکومتوں اور این جی اوز کی مالی اور ادارہ جاتی مدد حاصل ہے۔
107
105
ہندوستان میں، اگرچہ اردو صرف مسلمانوں کے ذریعہ استعمال نہیں کی جاتی ہے اور نہ کبھی ہوتی ہے (اور ہندی کبھی خصوصی طور پر ہندوؤں کے ذریعہ نہیں)،
104
108
جاری
ہندی-اردو تنازعہ
اور دونوں مذاہب کے ساتھ ہر زبان کی جدید ثقافتی وابستگی کی وجہ سے بہت کم اضافہ ہوا ہے۔ ہندو اردو استعمال کرتے ہیں۔
104
108
20ویں صدی میں، ہندوستانی مسلمانوں نے بتدریج اجتماعی طور پر اردو کو اپنانا شروع کیا
108
(مثال کے طور پر، '
بہار
کی آزادی کے بعد کی مسلم سیاست نے اردو زبان کے ارد گرد ایک متحرک دیکھا جو اقلیتوں کو بااختیار بنانے کے آلے کے طور پر خاص طور پر کمزور سماجی و اقتصادی پس منظر سے آنے والی ہے'۔
105
)، لیکن 21 ویں صدی کے اوائل میں ہندوستانی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی نے سماجی و اقتصادی عوامل کی وجہ سے ہندی کو تبدیل کرنا شروع کیا، جیسے کہ ہندوستان کے بیشتر حصوں میں اردو کو تدریسی زبان کے طور پر چھوڑ دیا گیا،
106
105
104
ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد 2001ء اور 2011ء کے درمیان 1.5 فیصد کم ہوئی (اس وقت 5.08 ملین اردو بولنے والے تھے)، خاص طور پر سب سے زیادہ اردو بولنے والی ریاستوں
اتر پردیش
(c. 8% سے 5%) اور بہار (c. 11.5% سے 8.5%)، حالانکہ ان دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کی تعداد میں اسی عرصے میں اضافہ ہوا ہے۔
106
اگرچہ 21 ویں صدی کے اوائل کے ہندوستانی پاپ کلچر میں اردو اب بھی بہت نمایاں ہے،
بالی ووڈ
103
سے لے کر سوشل میڈیا تک، اردو رسم الخط اور اردو میں کتابوں کی اشاعت میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔
105
چونکہ پاکستانی حکومت نے تقسیم کے وقت اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا، اس لیے ہندوستانی ریاست اور کچھ مذہبی قوم پرستوں نے جزوی طور پر اردو کو ایک 'غیر ملکی' زبان کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔
102
ہندوستان میں اردو کے حامی اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ اسے دیوناگری اور
لاطینی رسم الخط
رومن اردو
) میں لکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
104
109
105
وولہ بھائی آفتاب نے دلیل دی کہ اردو اصل میں روشن خیالی، ترقی اور آزادی کی ایک بہترین اشرافیہ زبان ہے، جس نے تحریک آزادی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
110
لیکن
1947ء کی تقسیم
کے بعد، جب اسے پاکستان کی قومی زبان کے طور پر منتخب کیا گیا، تو اسے بنیادی طور پر بنگالی سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا (جو کل آبادی کا 56 فیصد بولی جاتی ہے، زیادہ تر
مشرقی پاکستان
میں۔ آزادی کے حامی دونوں اشرافیہ جنھوں نے پاکستان میں
مسلم لیگ
اور ہندوستان میں ہندو اکثریتی
کانگریس پارٹی
کی قیادت کی تھی، برطانوی نوآبادیاتی دور میں انگریزی میں تعلیم حاصل کی گئی تھی اور انگریزی میں کام کرتے رہے اور اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں بھیجتے رہے۔
110
اگرچہ پاکستان میں اشرافیہ نے مختلف درجات کے ساتھ تعلیم کی اردوائزیشن کی کوششیں کی ہیں، لیکن سیاست، قانونی نظام،
فوج
اور
معیشت
کو اردو میں کرنے کے لیے کوئی بھی کامیاب کوشش نہیں کی گئی۔
110
یہاں تک کہ
جنرل ضیاء الحق
کی حکومت (1977-1988)، جو ایک متوسط پنجابی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ابتدائی طور پر پاکستانی معاشرے کی تیز اور مکمل اردوائزیشن کی بھرپور حمایت کرتے تھے (انھیں 'سرپرست اردو' کا اعزازی خطاب دیا گیا تھا۔
110
1960ء کی دہائی سے، اردو پاکستان میں اردو زبان مذہبی اسلام پسندی اور سیاسی قومی قدامت پرستی (اور آخر کار نچلے اور نچلے متوسط طبقے، علاقائی زبانوں جیسے کہ پنجابی، سندھی اور بلوچی) کے ساتھ منسلک رہی ہے، جبکہ انگریزی۔ بین الاقوامی سطح پر سیکولر اور ترقی پسند بائیں بازو (اور آخر کار بالائی اور اعلیٰ متوسط طبقے) سے وابستہ رہی۔
110
آبادیاتی اور جغرافیائی تقسیم
ہندوستان اور پاکستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد 100 ملین سے زیادہ ہے۔
2011ء کی مردم شماری
کے مطابق ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد 50.8 ملین تھی (کل آبادی کا 4.34%)۔
111
112
2023 میں پاکستان میں تقریباً 23.2 ملین
113
برطانیہ
سعودی عرب
، امریکا اور
بنگلہ دیش
میں بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ تاہم، اردو زبان بہت وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے، جو دنیا میں
مینڈارن چینی
اور
انگریزی
کے بعد تیسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔
114
نحو
(گرامر)، اردو اور ہندی کے بنیادی الفاظ بنیادی طور پر یکساں ہیں - اس طرح ماہر لسانیات انھیں عام طور پر ایک زبان کے طور پر شمار کرتے ہیں، جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ انھیں سماجی و سیاسی وجوہات کی بنا پر دو مختلف زبانوں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
115
دوسری زبانوں کے ساتھ تعامل کی وجہ سے، اردو جہاں کہیں بھی بولی جاتی ہے، بشمول پاکستان میں مقامی ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اردو میں تبدیلیاں آئی ہیں اور اس نے علاقائی زبانوں کے بہت سے الفاظ کو شامل کیا ہے۔ اسی طرح، ہندوستان میں بولی جانے والی اردو کو کئی بولیوں میں بھی پہچانا جا سکتا ہے جیسے کہ
لکھنؤ
اور
دہلی
کی معیاری اردو کے ساتھ ساتھ جنوبی ہندوستان کی
دکنی
بولی وغیرہ۔
116
117
اردو کی
ہندی
سے مماثلت کی وجہ سے، دونوں زبانوں کے بولنے والے آسانی سے ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔
118
پاکستان میں اردو
پاکستان کی 2017ء کی مردم شماری
کے مطابق ہر پاکستانی
ضلع
میں ان کی
مادری زبان
اردو والے لوگوں کا تناسب
تفصیلی مضمون کے لیے
پاکستان میں اردو
ملاحظہ کریں۔
اردو پورے پاکستان میں بولی اور سمجھی جاتی ہے،
119
لیکن پاکستان کی 9.25 فیصد آبادی اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر بولتی ہے۔
120
پاکستان میں پچیس سال سے زائد عرصے تک رہنے والے مختلف نسلی (جیسے
پشتون
تاجک
ازبک
ہزاروی
اور
ترکمان
) کے تقریباً تیس لاکھ افغان مہاجرین میں سے زیادہ تر اردو زبان بولتے ہیں۔
121
122
یہ مدرسوں میں اعلیٰ ثانوی جماعتوں تک لازمی مضمون کی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اِس نے ایسے کروڑوں اُردو بولنے والے پیدا کر دیے ہیں، جن کی مادری زبان
پنجابی
پشتو
سندھی
بلوچی
کشمیری
براہوی
سرائیکی
اور
چترالی
وغیرہ میں سے کوئی ایک ہوتی ہے۔ پاکستان میں اردو میں بہت سے اخبارات شائع ہوتے ہیں جن میں
روزنامہ جنگ
روزنامہ نوائے وقت
اور
روزنامہ ملت
شامل ہیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا ویب سائٹس جیسا کہ ڈیلی پاکستان اور
اردو پوائنٹ
اردو زبان میں مواد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی خطہ اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر استعمال نہیں کرتا۔ پاکستان کی
پنجابی اشرافیہ
نے اردو کو
مادری زبان
کے طور پر اپنایا ہے اور وہ اردو بولنے والے کے ساتھ ساتھ پنجابی شناخت دونوں سے پہچانے جاتے ہیں۔
123
124
اردو کو 1947ء میں پاکستان کی نئی ریاست کے لیے اتحاد کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ
پاکستان کے تمام صوبوں/علاقوں
میں لکھی، بولی اور استعمال کی جاتی ہے۔
125
انگریزی اور اردو دونوں میڈیم اسکولوں میں ہائر سیکنڈری اسکول تک اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے، جس نے لاکھوں دوسری زبان کے بولنے والوں کو اردو سکھائی۔
126
جبکہ کچھ اردو الفاظ کو پاکستان کی علاقائی زبانوں نے بھی ضم کر لیا ہے۔
127
128
8 ستمبر
2015ء
بروز منگل کو
پاکستان
کی
سپریم کورٹ
نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر سرکاری دفاتر میں اردو بطور سرکاری زبان کے نفاذ کے لیے حکم دے رکھا ہے۔
129
بھارت
تفصیلی مضمون کے لیے
بھارت میں اردو
ملاحظہ کریں۔
بھارت
اور
پاکستان
میں اردو بولنے والے علاقے۔
علاقے جہاں اردو سرکاری یا علاقائی سرکاری زبان سے مشترکہ سرکاری زبان ہے۔
(دیگر) علاقے جہاں صوبائی زبان سرکاری زبان ہے۔
بھارت
میں، اردو ان جگہوں پر بولی جاتی ہے جہاں بڑی مسلم اقلیتیں یا شہر ہیں جو ماضی میں مسلم سلطنتوں کے علاقے تھے۔ ان میں
اتر پردیش
مدھیہ پردیش
بہار
تلنگانہ
آندھرا پردیش
مہاراشٹرا
مراٹھواڑہ
اور کونکنی)،
کرناٹک
اور
حیدرآباد
لکھنؤ
دہلی
ملیرکوٹلہ
بریلی
میرٹھ
سہارنپور
مظفر نگر
روڑکی
مورا
آباد
اعظم گڑھ
بجنور
نجیب آباد
رام پور
علی گڑھ
الہ آباد
گورکھپور
آگرہ
فیروز آباد
کانپور
بدایوں
بھوپال
حیدرآباد
اورنگ آباد
سمستی پور
130
بنگلور
کولکاتا
میسور
پٹنہ
دربھنگہ
مدھوا
سمبھوانی
گانو پور
سہرسہ
سپول
مظفر پور
نالندہ
مونگیر
بھاگلپور
ارریہ
گلبرگہ
پربھنی
ناندیڑ
مالیگاؤں
بیدر
اجمیر
اور
احمد آباد
جیسے شہر شامل ہیں۔
131
بھارت کے تقریباً 800 اضلاع میں ایک بہت بڑی تعداد میں اردو بولنے والی اقلیت میں ہیں۔
ارریہ ضلع
بہار
میں، اردو بولنے والوں کی کثرت ہے اور
حیدرآباد ضلع، تلنگانہ
(43.35 فیصد تلگو بولنے والے اور 43.24 فیصد اردو بولنے والے) میں تقریباً کثرت ہے۔
کچھ بھارتی مسلم اسکول (
مدرسہ
) اردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھاتے ہیں اور ان کا اپنا نصاب اور امتحانات ہوتے ہیں۔ درحقیقت
بالی ووڈ
فلموں کی زبان میں فارسی اور عربی الفاظ کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے اور اس طرح اسے ایک لحاظ سے "اردو" سمجھا جاتا ہے،
132
خاص طور پر گانوں میں۔
133
بھارت میں 3,000 سے زیادہ اردو اشاعتیں ہیں جن میں 405 روزانہ اردو اخبارات بھی شامل ہیں۔
134
اخبارات جیسے کہ
نشاط نیوز اردو
سہارا اردو
روزنامہ سالار
ہندوستان ایکسپریس
روزنامہ پاسبان
روزنامہ سیاست
روزنامہ منصف
اور
انقلاب
بنگلور، مالیگاؤں، میسور، حیدرآباد اور
ممبئی
میں شائع اور تقسیم کیے جاتے ہیں۔
135
دیگر ممالک
جنوبی ایشیا سے باہر، یہ
خلیج فارس کے
ممالک کے بڑے شہری مراکز میں نقل مکانی کرنے والے جنوب ایشیائی کارکنوں کی بڑی تعداد کے ذریعہ بولی جاتی ہے۔
برطانیہ
ریاستہائے متحدہ امریکہ
کینیڈا
جرمنی
نیوزی لینڈ
ناروے
اور
آسٹریلیا
کے بڑے شہری مراکز میں بڑی تعداد میں تارکین وطن اور ان کے بچے بھی اردو بولتے ہیں۔
136
عربی کے ساتھ ساتھ،
کاتالونیا
میں سب سے زیادہ بولنے والے تارکین وطن کی زبانوں میں اردو بھی شامل ہے۔
137
سرکاری حیثیت
پاکستان میں
پاکستان ریلویز
صدر دفتر کے اوپر لکھی ہو اردو تحریر
اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور یہ پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ
تعلیم
، اَدب، دفتر، عدالت، وسیط اور دینی اِداروں میں مستعمل ہے۔ یہ ملک کی سماجی و ثقافتی میراث کا خزانہ ہے۔
اردو پاکستان میں واحد قومی زبان ہے اور پاکستان کی دو سرکاری زبانوں میں سے ایک (انگریزی کے ساتھ)۔
138
یہ پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، جبکہ ریاستی زبانیں (مختلف خطوں میں بولی جانے والی زبانیں)
صوبائی زبانیں
ہیں، حالانکہ صرف 9.25 فیصد پاکستانی اپنی پہلی زبان کے طور پر اردو بولتے ہیں۔
139
اس کی سرکاری حیثیت کا مطلب یہ ہے کہ اردو دوسری یا تیسری زبان کے طور پر پورے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ یہ
تعلیم
ادب
، دفتر اور عدالت کے کاروبار میں استعمال ہوتا ہے،
140
حالانکہ عملی طور پر حکومت کے اعلیٰ عہدوں میں اردو کی بجائے انگریزی استعمال ہوتی ہے۔
141
پاکستانی آئین
کے آرٹیکل 251(1) میں کہا گیا ہے کہ اردو کو حکومت کی واحد زبان کے طور پر لاگو کیا جائے، حالانکہ پاکستانی حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر انگریزی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے۔
142
بھارت میں
نئی دہلی
ریلوے اسٹیشن میں ہمہ زبانوں میں لکھا ہوا بورڈ۔
اردو
بھارت
میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ زبانوں میں سے ایک ہے اور اسے
بھارتی ریاستوں
آندھرا پردیش
اتر پردیش
بہار
جھارکھنڈ
مغربی بنگال
تلنگانہ
اور قومی دار الحکومت
دہلی
میں
"اضافی سرکاری زبان"
کا درجہ بھی حاصل ہے۔
143
جموں و کشمیر
کی پانچ سرکاری زبانوں میں سے ایک کے طور پر بھی ہے۔
144
بھارت نے 1969ء میں اردو کے فروغ کے لیے سرکاری بیورو قائم کیا، حالانکہ سنٹرل ہندی ڈائریکٹوریٹ اس سے قبل 1960ء میں قائم کیا گیا تھا اور ہندی کی ترویج کے لیے بہتر مالی امداد اور زیادہ ترقی دی گئی ہے،
145
جب کہ فروغ سے اردو کی حیثیت کو نقصان پہنچا ہے۔
146
اردو کی نجی بھارتی تنظیمیں جیسے انجمنِ طریقت اردو، دینی علمی کونسل اور اردو مصحف دستہ اردو کے استعمال اور تحفظ کو فروغ دیتی ہیں، انجمن نے کامیابی کے ساتھ ایک مہم کا آغاز کیا جس نے 1970ء کی دہائی میں بہار کی سرکاری زبان کے طور پر اردو کو دوبارہ متعارف کرایا۔
145
سابقہ
جموں و کشمیر ریاست
میں، کشمیر کے آئین کے سیکشن 145 میں کہا گیا ہے: "ریاست کی سرکاری زبان اردو ہوگی لیکن انگریزی زبان جب تک قانون سازی کے ذریعہ دوسری صورت میں فراہم نہیں کرتی، ریاست کے تمام سرکاری مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہے گی۔ وہ ریاست جس کے لیے اسے آئین کے آغاز سے فوراً پہلے استعمال کیا جا رہا تھا۔
147
بولیاں
مینار پاکستان
پر مختلف زبانوں میں تحریر
اردو میں چند تسلیم شدہ بولیاں ہیں، جن میں
دکھنی
، ڈھاکیہ،
ریختہ
اور ماڈرن ورناکولر اردو (دہلی کے علاقے کی
کوروی بولی
بولی پر مبنی) شامل ہیں۔
دکنی
جنوبی ہندوستان
کے علاقے
دکن
میں بولی جاتی ہے۔ یہ
مراٹھی
اور
کوکنی زبان
کے الفاظ کے مرکب کے ساتھ ساتھ عربی،
فارسی
اور
چغتائی
کے الفاظ کے مرکب سے الگ ہے جو اردو کی معیاری بولی میں نہیں ملتی۔ دکھنی
مہاراشٹر
تلنگانہ
آندھرا پردیش
اور
کرناٹک
کے تمام حصوں میں بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ اردو ہندوستان کے دوسرے حصوں کی طرح پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ ان ریاستوں میں اردو کے کئی روزنامے اور کئی ماہانہ رسائل شائع ہوتے ہیں۔
ڈھاکیہ اردو
بنگلہ دیش
کے پرانے ڈھاکہ شہر کی ایک بولی ہے جو
مغل دور
سے شروع ہوتی ہے۔ تاہم، اس کی مقبولیت، یہاں تک کہ مقامی بولنے والوں میں بھی، 20ویں صدی میں
بنگالی زبان کی تحریک
کے بعد سے بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ اسے بنگلہ دیش کی حکومت نے سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔
بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں
کی بولی جانے والی اردو اس بولی سے مختلف ہے۔
اردو کی وہ بولیاں جن کی شناخت کی گئی ہے، یہ ہیں:
دکنی
- اس کو دکھنی، دیسیا، مرگان نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ زبان دکن بھارت میں بولی جاتی ہے۔ مہاراشٹر میں جائیں تو مراٹھی اور کونکنی زبانوں کا اثر ملے گا، آندھرا پردیش جائیں تو تیلگو کا اثر ملے گا۔
ریختہ
کھری بولی
: (کھڑی بولی)
پاکستان میں اردو پر
پشتو
پنجابی
سرائیکی
بلوچی
سندھی
زبانوں کا اثر پایا جاتا ہے، مقامی زبانوں کے اثر کی وجہ سے اردو کے
حروف تہجی
عربی اور فارسی سے زیادہ ہیں، بنیادی طور پر پاکستان کی اردو پر فارسی اور عربی کا اثر نمایاں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ہندی کے ساتھ موازنہ
ہندوستان میں سڑک کے نشان پر اردو اور ہندی۔ اردو ورژن انگریزی کا براہ راست ترجمہ ہے۔ ہندی ایک حصہ نقل حرفی ہے ("پارسل" اور "ریل") اور جزوی ترجمہ "کاریالے" اور "ارکشن کیندر"
معیاری اردو کا اکثر
معیاری ہندی
سے
موازنہ کیا جاتا
ہے۔
148
اردو اور ہندی دونوں، جو ایک ہی زبان،
ہندوستانی
کے بنیادی الفاظ اور
گرامر کا
اشتراک کرتے ہیں۔
149
150
151
152
مذہبی انجمنوں کے علاوہ، اختلافات زیادہ تر
معیاری شکلوں
تک ہی محدود ہیں: معیاری اردو روایتی طور پر
فارسی حروف تہجی
کے
نستعلیق انداز
میں لکھی جاتی ہے اور فنی اور ادبی الفاظ کے ماخذ کے طور پر فارسی اور عربی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے،
153
جبکہ معیاری ہندی روایتی طور پر
دیوناگری
میں لکھی جاتی ہے اور
سنسکرت
سے عبارت ہے۔
154
تاہم، دونوں مقامی
سنسکرت
اور
پراکرت
سے ماخوذ الفاظ کی بنیادی ذخیرہ الفاظ اور
عربی
اور فارسی کے الفاظ کی ایک خاصی مقدار کا اشتراک کرتے ہیں، ماہرین لسانیات کے اتفاق کے ساتھ کہ وہ ایک ہی زبان کی دو معیاری شکلیں ہیں
155
اور فرق پر غور کریں۔ سماجی لسانی ہونا؛
156
کچھ ان کی الگ الگ درجہ بندی کرتے ہیں۔
157
دونوں زبانوں کو اکثر ایک زبان (ہندوستانی یا ہندی-اردو) سمجھا جاتا ہے جس میں فارسی سے لے کر سنسکرت کے الفاظ تک کے تسلسل میں بولی جاتی ہے،
158
لیکن اب وہ سیاست کی وجہ سے الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مختلف ہیں۔
159
پرانی اردو لغات میں سنسکرت کے زیادہ تر الفاظ اب ہندی میں موجود ہیں۔
160
صوتیاتی سطح پر، دونوں زبانوں کے بولنے والے اپنے الفاظ کے انتخاب کی فارسی-عربی یا سنسکرت کی اصل سے اکثر واقف ہوتے ہیں، جو ان الفاظ کے تلفظ کو متاثر کرتا ہے۔
161
اردو بولنے والے اکثر سنسکرت کے الفاظ میں پائے جانے والے حرفوں کے جھرمٹ کو توڑنے کے لیے حرف داخل کرتے ہیں، لیکن عربی اور فارسی کے الفاظ میں ان کا صحیح تلفظ کریں گے۔
162
برٹش انڈیا کی تقسیم
کے بعد سے مذہبی قوم پرستی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے نتیجے میں، ہندی اور اردو دونوں کے مقامی بولنے والے اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ الگ الگ زبانیں ہیں۔
اردو بولنے والے ممالک
درج ذیل فہرست میں کچھ ممالک میں اردو بولنے والوں کی تعداد دکھائی گئی ہے۔
ملک
آبادی
مقامی زبان بولنے والے
مقامی بولنے والے اور دوسری زبان بولنے والے
بھارت
1,296,834,042
163
50,772,631
164
3.9
12,151,715
165
0.9
پاکستان
241,499,431
22,249,307
9.25
164,000,000
77%
سعودی عرب
33,091,113
166
2.3
930,000
167
نیپال
29,717,587
168
691,546
169
2.3
افغانستان
38,347,000
170
733,000
171
بنگلہ دیش
159,453,001
172
300,000
173
0.1
برطانیہ
65,105,246
174
269,000
0.4
ریاستہائے متحدہ
329,256,465
175
397,502
176
0.1
متحدہ عرب امارات
9,890,400
300,000
3.0
1,500,000
15.1
کینیڈا
35,881,659
177
243,090
178
0.6
بحرین
(اقلیتی)
فجی
ہندستانی
انگریزی
اور
فجی
کے ساتھ شریک سرکاری زبان)
موریشس
(اقلیتی زبان)
عمان
(اقلیتی زبان)
قطر
(اقلیتی زبان)
جنوبی افریقا
(اقلیتی زبان)
ذخیرہ الفاظ
اردو زبان
یہ مضمون اردو زبان پر مضامین کا تسلسل ہے
اصناف ادب
اردو
تاریخ
پنجاب میں اردو
دکن میں اردو
اردو بلحاظ ملک
پاکستان میں اردو
بھارت میں اردو
بولیاں
دکنی
ریختہ
کھڑی بولی
حیدرآبادی;
اردو ادب
نثری ادب
اصناف
افسانہ
پاکستانی افسانہ
سرحد کا افسانہ
افسانچہ
ناول
داستان
ڈراما
تنقید
خود نوشت
آپ بیتی
]]
نظم
اصناف
غزل
پاکستانی غزل
سرحد کی غزل
نظم
پاکستانی نظم
مثنوی
مسدس
ہاکو
لوک گیت
مايے
مذہبی شاعری
حمد
نعت
مولود
قصیدہ
منقبت
مرثیہ
سلام
نوحہ
سوز
موسیقی
قوالی
گیت
مایا
لسانیات
حروف تہجی
قواعد
املا
انشا
اردو ذرائع ابلاغ
ٹی وی چینل
ویب سائٹ
ریڈیو اسٹیشن
اردو رسائل
اردو اخبارات
اردو کتب
فہرستیں
کتاب
اردو کتابوں کی فہرست
اردو ناول
اردو افسانے
کہانیاں
سفرنامے
شعری کلیات
مکتوبات
شخصیات
شعرا
ناول نگار
افسانہ نگار
ڈراما نگار
مزاح نگار
خاکہ نگار
آپ بیتی نگار
ادارے
ناشرین
کتاب فروش
ادارے
سرکاری
جامعات
مزید دیکھیے
اردو زبان
باب
(زبان)
خاکہ
خط زمانی
سید احمد دہلوی، انیسویں صدی کے ایک
لغت نگار
جنھوں نے
فرہنگِ آصفیہ
179
اردو لغت مرتب کی، اندازہ لگایا کہ 75% اردو الفاظ کی جڑیں
سنسکرت
اور
پراکرت
میں ہیں،
180
181
182
اور تقریباً اردو کے 99% فعل کی جڑیں سنسکرت اور پراکرت میں ہیں۔
183
184
اردو نے فارسی سے الفاظ مستعار لیے ہیں اور کچھ حد تک
عربی
فارسی کے ذریعے،
185
تقریباً 25%
180
181
182
186
اردو کی ذخیرہ الفاظ کا 30% تک۔
187
چیپل ہل میں یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا
کے ماہر لسانیات افروز تاج کی طرف سے بیان کردہ جدول اسی طرح ادبی اردو میں سنسکرت سے ماخوذ الفاظ کے فارسی ادھار کی مقدار کو 1:3 کے تناسب پر مشتمل بیان کرتا ہے۔
182
"فارسیائزیشن کی طرف رجحان" 18ویں صدی میں اردو شاعروں کے دہلی اسکول سے شروع ہوا، حالانکہ دیگر مصنفین، جیسے
میراجی
، نے زبان کی سنسکرت شکل میں لکھا۔
188
1947 کے بعد سے پاکستان میں ہائپر فارسائزیشن کی طرف پیش قدمی جاری ہے، جسے ملک کے بیشتر مصنفین نے اپنایا ہے۔
189
اس طرح، کچھ اردو عبارتیں 70% فارسی-عربی قرضوں پر مشتمل ہو سکتی ہیں جس طرح کچھ فارسی متن میں 70% عربی الفاظ ہو سکتے ہیں۔
190
کچھ پاکستانی اردو بولنے والوں نے ہندوستانی تفریح کی نمائش کے نتیجے میں ہندی الفاظ کو اپنی تقریر میں شامل کیا ہے۔ ہندوستان میں ہندی سے اردو اتنی نہیں بدل گئی جتنی پاکستان میں ہے۔
191
اردو میں زیادہ تر مستعار الفاظ اسم اور صفت ہیں۔
192
عربی اصل کے بہت سے الفاظ فارسی کے ذریعے اختیار کیے گئے ہیں،
193
اور عربی کے مقابلے میں مختلف تلفظ اور معنی اور استعمال کی باریکیاں ہیں۔
پرتگالیوں
سے ادھار کی تعداد بھی کم ہے۔ اردو میں مستعار پرتگالی الفاظ کے لیے کچھ مثالیں
چابی
("chave": key)،
گرجا
("igreja": church)،
کمرہ
("cámara": room)،
قمیض
("camisa": shirt) ہیں۔
194
اگرچہ
اردو
کا لفظ
ترکی کے
لفظ
ordu
(army) یا
orda
سے ماخوذ ہے، جس سے انگریزی
horde
بھی ماخوذ ہے،
195
اردو میں ترک ادھار کم سے کم ہے
196
اور اردو کا تعلق جینیاتی طور پر بھی
ترک زبانوں
سے نہیں ہے۔
چغتائی
اور عربی سے نکلنے والے اردو الفاظ فارسی سے مستعار لیے گئے تھے اور اس لیے یہ اصل الفاظ کے فارسی نسخے ہیں۔ مثال کے طور پر، عربی
ta' marbuta
اس
میں تبدیلیاں (
> ) یا
te

197
note 1
بہر حال، عام خیال کے برخلاف، اردو نے
ترکی زبان
سے نہیں لیا، بلکہ
چغتائی
سے لیا، جو وسطی ایشیا کی ایک
ترک زبان ہے
۔ اردو اور ترکی دونوں عربی اور فارسی سے مستعار ہیں، اس لیے بہت سے اردو اور ترکی الفاظ کے تلفظ میں مماثلت ہے۔
رسمیت
اردو کو اس کے کم باضابطہ رجسٹر میں
rek̤h̤tah
ریختہ
[reːxtaː]
) کہا گیا ہے، جس کا مطلب ہے "کھردرا مرکب"۔ اردو کے زیادہ باضابطہ رجسٹر کو بعض اوقات
zabān-i Urdū-yi muʿallá
زبانِ اُردُوئے معلّٰى
[zəbaːn

ʊrdu

moəllaː]
)، "بلند کیمپ کی زبان" کہا جاتا ہے، جس کا حوالہ دیتے ہوئے
لشکری زبان
فوج
198
میں مقامی یا
لاشری کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ ʃkəɾi
ləʃkəɾi:
zɑ:bɑ:n
])
199
یا صرف
لشکری
200
اردو میں استعمال ہونے والے لفظ کی
تشبیہات
، زیادہ تر حصے کے لیے، فیصلہ کرتی ہیں کہ کسی کی بات کتنی شائستہ یا بہتر ہے۔ مثال کے طور پر، اردو بولنے والے
پانی
اور
آب
آب
کے درمیان فرق کریں گے، دونوں کے معنی "پانی" کے ہیں: سابقہ بول چال میں استعمال ہوتا ہے اور
اس
کی
سنسکرت
کی اصل ہے، جب کہ مؤخر الذکر
فارسی
نژاد ہونے کی وجہ سے رسمی اور شاعرانہ طور پر استعمال ہوتا ہے۔
اگر کوئی لفظ فارسی یا عربی زبان کا ہو تو تقریر کی سطح زیادہ رسمی اور عظیم تر سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح، اگر فارسی یا عربی گرامر کی تعمیرات، جیسے کہ اِضافات، کو اردو میں استعمال کیا جائے، تو تقریر کی سطح بھی زیادہ رسمی اور عظیم تر سمجھی جاتی ہے۔ اگر کوئی لفظ
سنسکرت
سے وراثت میں ملا ہے تو تقریر کی سطح کو زیادہ بول چال اور ذاتی سمجھا جاتا ہے۔
201
تحریری نظام
اردو
نستعلیق
حروف تہجی، دیوناگری اور رومن رسم الخط میں ناموں کے ساتھ
اردو کا تحریری نظام
فارسی حروف تہجی
کی توسیع ہے جو دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے اور یہ نظام خود
عربی حروف تہجی
کی توسیع ہے۔ اردو کا تعلق فارسی خطاطی کے
نستعلیق طرز
سے ہے، جب کہ عربی عام طور پر
ناسخ
یا
رقہ کے
انداز میں لکھی جاتی ہے۔
نستعلیق کو
ٹائپ سیٹ کرنا بدنام زمانہ مشکل ہے، لہٰذا
1980ء
کی دہائی کے آخر تک اردو اخبارات کو خطاطی کے ماہروں کے ہاتھ سے لکھا جاتا تھا، جنھیں
کاتب
یا
خُوش
نویس
کہا جاتا تھا۔ ایک ہاتھ سے لکھا ہوا اردو اخبار،
دی مسلمان
، اب بھی
چنئی
میں روزانہ شائع ہوتا ہے۔
202
ٹیکسلا
کے قریب
سرکپ
کے آثار قدیمہ کے مقام پر انگریزی-اردو دو لسانی نشان۔ اردو کہتی ہے: (دائیں سے بائیں)
دو سروں والے عقاب کی شبيہ والا مندر
، dō sarōñ wālé uqāb kī shabīh wāla mandir۔ "دو سروں کے ساتھ عقاب کی تصویر والا مندر۔"
اردو کی ایک انتہائی فارسی اور تکنیکی شکل بنگال اور شمال مغربی صوبوں اور اودھ میں برطانوی انتظامیہ کی قانونی عدالتوں کی
زبانی
تھی۔ 19ویں صدی کے آخر تک، اردو کے اس رجسٹر میں تمام کارروائیاں اور عدالتی لین دین سرکاری طور پر فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔
1880ء
میں، نوآبادیاتی ہندوستان میں بنگال کے لیفٹیننٹ گورنر سر ایشلے ایڈن نے بنگال کی عدالتوں میں فارسی حروف تہجی کے استعمال کو ختم کر دیا اور اردو اور ہندی دونوں کے لیے استعمال ہونے والی مقبول رسم الخط کیتھی کے خصوصی استعمال کا حکم دیا۔
صوبہ بہار
میں عدالتی زبان اردو تھی جو کیتھی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔
203
204
205
206
کیتھی کا اردو اور ہندی کے ساتھ تعلق بالآخر ان زبانوں اور ان کے رسم الخط کے درمیان سیاسی مقابلے کے باعث ختم ہو گیا، جس میں فارسی رسم الخط کو یقینی طور پر اردو سے جوڑا گیا تھا۔
حال ہی میں ہندوستان میں، اردو بولنے والوں نے اردو رسالوں کی اشاعت کے لیے
دیوناگری کو
اپنایا ہے اور دیوناگری میں اردو کو دیوناگری میں ہندی سے الگ نشان زد کرنے کے لیے نئی حکمت عملیوں کو اختراع کیا ہے۔ ایسے ناشرین نے اردو الفاظ کی فارسی عربی تشبیہات کی نمائندگی کرنے کے مقصد سے دیوناگری میں نئی آرتھوگرافک خصوصیات متعارف کروائی ہیں۔ ایک مثال ہندی آرتھوگرافک قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے،
'عین
) کے سیاق و سباق کی نقل کرنے کے لیے حرفی علامات کے ساتھ ا (دیوناگری
) کا استعمال ہے۔ اردو پبلشرز کے لیے، دیوناگری کا استعمال انھیں زیادہ سامعین فراہم کرتا ہے، جب کہ آرتھوگرافک تبدیلیاں انھیں اردو کی ایک الگ شناخت کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔
بنگال
کے کچھ شاعروں، یعنی
قاضی نذر الاسلام
، نے تاریخی طور پر بنگالی رسم الخط کو اردو شاعری لکھنے کے لیے استعمال کیا ہے جیسے
پریم نگر کا ٹھکانہ کرلے
اور
میرا بیٹی کی خیلہ
، نیز دو لسانی بنگالی اردو نظمیں جیسے
الگا کورو گو کھوپر بندھن
جبوکر چھولونا
اور
میرا دل بیت کیا
207
208
209
ڈھاکہ اردو اردو کی ایک بول چال کی غیر معیاری بولی ہے جو عام طور پر نہیں لکھی جاتی تھی۔ تاہم، بولی کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے والی تنظیموں نے بولی کو بنگالی رسم الخط میں نقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
حاشیہ 1
210
اردوحروف تہجی
جدول 1:
درج ذیل جدول میں حروف تہجی ، قابلِ طق (clickable) ہیں اور متعلقہ ابجد کی جانب راہنمائی کرتے ہیں۔ ہر ابجد کے نیچے اسکا انگریزی تلفظ ، غیراردو (یا طالب اردو) صارفین کو مدنظر رکھ کر دیا گیا ہے؛ جبکہ (قوسین) میں موجود انگریزی متبادل ابجدیہ ، بصورت ضرورت
لاطینی
اردو
roman
urdu) تلفظ کی ادائگی میں یکسانیت قائم رکھنے کے مقصد سے درج ہیں۔
Alif (a)
Bay (b)
Pay (p)
tey (t)
Tey (T)
sey (s)
Jiim (j)
chey (ch)
Hey (H)
Khey (Kh)
daal (d)
Daal (D)
zaal (z)
rey (r)
Rey (R)
zey (z)
zhey (zh)
siin (s)
shiin (sh)
Suad (S)
Zuad (Z)
toy (t)
zoy (z)
ain (a)
Ghain (Gh)
fey (f)
qaaf (q)
kaaf (k)
gaaf (g)
laam (l)
miim (m)
noon (n)
wao (w,v)
hey (h)
yei (y)
Yei (Y)
ادب
تفصیلی مضمون کے لیے
اردو ادب
ملاحظہ کریں۔
حضرت
امیر خسرو
کی فارسی شاعری۔ (1253–1325)۔
اردو ادب نے حالیہ صدیوں میں حقیقی مقام پایا، اس سے کئی صدیوں پہلے تک سلاطین دہلی پر فارسی کا غلبہ تھا۔ فارسی کی جگہ اردو نے بڑی آسانی سے پالی اور یہاں تک کہ لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ فارسی کبھی سرکاری زبان تھی بھی کہ نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اردو کے مصنفین اور فنکار ہیں۔
نثری ادب
تفصیلی مضمون کے لیے
اردو نثری ادب
ملاحظہ کریں۔
مذہبی
اردو زبان میں
اسلامی ادب
اور
شریعت
کی کئی تصانیف ہیں۔ اس میں تفسیر القران، قرآنی تراجم،
احادیث
فقہ
تاریخ اسلام
روحانیت
اور
صوفی طریقہ
کے بے شمار کتب دستیاب ہیں۔ عربی اور فارسی کی کئی کلاسیکی کتب کے بھی تراجم اردو میں ہیں۔ ساتھ ساتھ کئی اہم، مقبول، معروف اسلامی ادبی کتب کا خزینہ اردو میں دستیاب ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پنڈت روپ چند جوشی نے اٹھارویں صدی میں ایک کتاب لکھی، جس کا نام لال کتاب ہے۔ اس کا موضوع فالنامہ ہے۔ یہ کتاب برہمنوں کے اُن خاندانوں میں جہاں اردو عام زبان تھی، کافی مشہور کتاب مانی گئی۔
ادبی
میر تقی میر
(1723–1810) مغل سلطنت کے دور میں 18 ویں صدی میں اودھ کے نوابی دور کے مشہور شاعر۔
غیر مذہبی ادب کو پھر سے دو اشکال میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک فکشن ہے تو دوسرا غیر فکشن۔
فکشن اصناف:
افسانہ
نگاری کافی مشہور صنف تسلیم کی گئی۔ افسانہ لکھنے والے کو افسانہ نگار کہتے ہیں۔ ان افسانہ نگاروں میں مشہور
منشی پریم چند
سعادت حسن منٹو
راجندر سنگھ بیدی
کرشن چندر
قرۃ العین حیدر
عصمت چغتائی
غلام عباس
بلونت سنگھ
ممتاز مفتی
خواجہ احمد عباس
انتظار حسین
اور
احمد ندیم قاسمی
شہرت یافتہ ہیں۔
اردو ناول
بھی کافی مشہور صنف ہے۔ اردو کے مشہور ناولوں میں اُمراؤ جان ادا، آگ کا دریا، بستی،
اداس نسلیں
خدا کی بستی
، آخر شب کے ہم سفر،
راکھ
بہاؤ
، شامِ اودھ، کئی
چاند
تھے سرِ آسماں، جانگلوس، گریز، آنگن، علی پور کا ایلی، ضدی، ٹیڑھی لکیر،
خس و خاشاک زمانے
اور
اے غزال شب
شہرت رکھتے ہیں۔
سفر نامہ
مضمون
، سرگزشت،
انشائیہ
، مراسلہ،
خود نوشت
وغیرہ دیگر اصناف میں سے ہیں۔
نظم
تفصیلی مضمون کے لیے
اردو نظم
ملاحظہ کریں۔
مرزا غالب
کی ایک یادگار تصویر۔
علامہ اقبال
ادب کی دوسری قسم نظم ہے۔ نظم کے معنی موتی پرونا ہے۔ یعنی کلام کو ایک ترتیب وار ہیئت کے ساتھ پیش کریں تو وہ صنف نظم کہلاتی ہے۔ اس ادب کو اردو نظمی ادب کہتے ہیں۔ لیکن آج کل اس کو اردو شاعری یا شاعری کے نام سے بھی جانا جانے لگا ہے۔
جنوبی ایشیا
میں اردو ایک اہم زبان ہے۔ بالخصوص نظم میں اردو کے مقابلہ میں دوسری زبان نہیں۔ اردو کی روایات میں کئی اصناف ہیں جن میں
غزل
نمایاں ترین حیثیت کی حامل ہے۔
نظمی اردو (
اردو شاعری
) میں ذیل کے اصناف ہیں:
نظم
: مربوط اور مکمل شاعرانہ کلام۔
غزل
: دو مصرعوں پر مشتمل مکمل، بامعنی اور جداگانہ اشعار کی لڑی
مثنوی
: ایک لمبی نظم جس میں کوئی قصہ یا داستان کہی گئی ہو۔
مرثیہ
: شہیدوں کے واقعات کو بیان کرنے والی نظم۔ بالخصوص شہیدانِ
کربلا
کی
شہادت
کو بیان کرنے والی نظم۔
قصیدہ
: قصیدہ اردو نظم کی وہ صنف ہے جسے کسی کی تعریف میں کہی گئی نظمی شکل کہہ سکتے ہیں۔ اس کے چار اقسام ہیں
حمد
: اللّٰہ کی تعریف میں کہا گیا قصیدہ۔
نعت
: پیغمبر اسلام حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔
منقبت
: بزرگوں کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔
مدح
: بادشاہوں، نوابوں کی شان میں کہا گیا قصیدہ۔
نوحہ
معرکۂ کربلا
میں ہوئے شہیدوں کے واقعات کو بیان کرنے والی صنف نوحہ ہے۔ مرثیہ اور نوحہ لکھنے میں شہرت یافتہ شعرا
میر ببر علی انیس
اور
مرزا سلامت علی دبیر
ہیں۔
مزید دیکھیے
پاکستان کی زبانیں
اردو ہندی تنازع
اردو زبان کی ابتدا کے متعلق نظریات
اردو ادب
اردو ابجد
اردو تحریک
اردو زبان کے شاعروں کی فہرست
اردو زبان کے مصنفین کی فہرست
اردو تحریک
فارسی اور اردو
اردو بولنے والوں کے ذریعہ ہندوستان کی ریاستیں۔
برطانیہ میں اردو
اردو شاعری
کھری بولی
اردو ویکیپیڈیا
اردو کی بورڈ
رومن اردو
بیرونی روابط
لہجہ
ترتیب وڈیزائننگ ایم پی خاؿ اردولشکری زبان
انگریزی سے اردو آف لائن اور editable ڈکشنری ڈاون لوڈ کریں
لشکری زبان
علوی نستعلیق یونیکوڈ فونٹ ڈاون لوڈ کریں
آرکائیو شدہ
(غیرموجود تاریخ)
بذریعہ alvi.urdushare.net
(نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
اردو كى پيدائش
اردو حروفِ تہجی کی کہانی
ہندوستان میں اردو
آرکائیو شدہ
(غیرموجود تاریخ)
بذریعہ shuaibday.blogspot.com
(نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
ايتھنولوگ کی اردو پر رپورٹ
(جلد اول) بنيادی اردو
آرکائیو شدہ
(غیرموجود تاریخ)
بذریعہ dsal.uchicago.edu
(نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
رومن حروف تہجی کا قاعدہ
ویکی ذخائر پر
اردو
سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔
حوالہ جات
"Ethnologue: Languages of the World, Seventeenth edition, Urdu"
۔ Ethnologue۔ 2018-12-24 کو اصل سے
آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2013-03-05
اردو
at
ایتھنولوگ
(18th ed., 2015)
W. YATES (1847)۔
A DICTIONARY, HINDUSTANI AND ENGLISH
۔ Calcutta, British India: Baptist Mission Press۔ ص iv
Gaurav Takkar۔
"Short Term Programmes"
punarbhava.in
۔ 2018-12-24 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2015-03-29
"Indo-Pakistani Sign Language",
Encyclopedia of Language and Linguistics
"National Council for Promotion of Urdu Language"
۔ Urducouncil.nic.in۔ 2018-12-24 کو اصل سے
آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2011-12-18
احتشام حسین (1956)۔ "اُردو زبان کی ابتدا"۔
اردو کی کہانی
۔ اردو گاہ
Urdu has some form of official status in the Indian states of Bihar, Jharkhand, Telangana, Uttar Pradesh and West Bengal, as well as the national capital territory of Delhi and the Union Territory of Jammu and Kashmir. (ہندوستانی ریاستوں بہار، جھارکھنڈ، تلنگانہ، اتر پردیش اور مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ دہلی کے قومی دار الحکومت علاقہ اور جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اردو کو سرکاری حیثیت حاصل ہے۔)
"National Languages Policy Recommendation Commission"
(PDF)
۔ MOE Nepal۔ 1994۔ ص Appendix one۔ 2023-03-26 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-03-14
Barbara D. Metcalf (2014)۔
Islamic Revival in British India: Deoband, 1860-1900
۔ Princeton University Press۔ ص 207–۔
ISBN
978-1-4008-5610-7
اس تبدیلی کی بنیاد حکومت کی طرف سے 1837ء میں ملک کی مختلف مقامی زبانوں کی طرف سے فارسی کو عدالتی زبان کے طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ تھا۔ اردو کی شناخت بہار، اودھ، شمال مغربی صوبوں اور پنجاب میں علاقائی زبان کے طور پر کی گئی تھی، اور اسی لیے اسے بالائی ہندوستان میں حکومت کی زبان بنایا گیا۔
Ruth Laila Schmidt (8 Dec 2005).
Urdu: An Essential Grammar
(بزبان انگریزی). Routledge.
ISBN
978-1-134-71319-6
تاریخی طور پر، اردو دہلی کے علاقے کی ذیلی علاقائی زبان سے تیار ہوئی، جو اٹھارویں صدی میں ایک ادبی زبان بن گئی۔ زبان کی دو بالکل ملتی جلتی معیاری شکلیں دہلی میں اور جدید اتر پردیش کے لکھنؤ میں تیار ہوئیں۔ 1947ء کے بعد سے، کراچی کی معیاری اردو، ایک تیسری شکل تیار ہوئی ہے۔
B. P. Mahapatra (1989).
Constitutional languages
(بزبان انگریزی). Presses Université Laval. p. 553.
ISBN
978-2-7637-7186-1
جدید اردو کافی حد تک یکساں زبان ہے۔ ایک پرانی جنوبی شکل، دکنی اردو، اب متروک ہو چکی ہے۔ تاہم، دو قسموں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ دہلی کی اردو اور لکھنؤ کی اردو۔ دونوں تقریباً ایک جیسے ہیں، صرف چند معمولی نکات میں مختلف ہیں۔ یہ دونوں قسمیں بعض معمولی اختلافات کے ساتھ 'معیاری اردو' سمجھی جاتی ہیں۔
Rachel Dwyer (27 Sep 2006).
Filming the Gods: Religion and Indian Cinema
(بزبان انگریزی). Routledge.
ISBN
978-1-134-38070-1
Tariq Rahman (2001)۔
From Hindi to Urdu: A Social and Political History
(PDF)
۔ Oxford University Press۔ ص 1–22۔
ISBN
978-0-19-906313-0
۔ 2014-10-10 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2014-10-07
"A Historical Perspective of Urdu | National Council for Promotion of Urdu Language"
۔ 15 اکتوبر 2022۔ 2022-10-15 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2022-10-17
Rekhta Dictionary (5 اپریل 2022)۔
"Meaning of Urdu"
ریختہ لغت
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2022-04-05
Michael G. Clyne (1992).
Pluricentric Languages: Differing Norms in Different Nations
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter. p. 383.
ISBN
978-3-11-012855-0
"Meaning of urdu-e-mualla in English"
Rekhta Dictionary
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2022-10-17
M. Ashraf Bhat (2017).
The Changing Language Roles and Linguistic Identities of the Kashmiri Speech Community
(بزبان انگریزی). Cambridge Scholars Publishing. p. 72.
ISBN
978-1-4438-6260-8
اگرچہ اس نے بڑی تعداد میں لغوی اشیاء فارسی سے اور کچھ ترکی سے مستعار لی ہیں، لیکن یہ
ہندوی
(جسے
ابتدائی اردو
بھی کہا جاتا ہے) سے ماخوذ ہے، جو کہ جدید ہندی اور اردو دونوں کی مادر ہے۔ اس کی ابتدا دہلی کی ایک نئی، عام زبان کے طور پر ہوئی، جسے امیر خسرو نے
ہندوی
یا
دہلوی
کہا ہے۔ ہندوستانی تاریخ کے اسٹیج پر مغلوں کی آمد کے بعد،
ہندوی
زبان کو زیادہ جگہ اور قبولیت حاصل ہوئی۔ فارسی الفاظ و محاورات کا رواج ہوا۔ اس دور کی
ہندوی
کو
ریختہ
یا ہندوستانی کے نام سے جانا جاتا تھا اور بعد میں اردو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کامل دوستی اور رواداری نے
ریختہ
یا اردو کو فروغ دیا، جو تنوع میں اتحاد کے اصول کی نمائندگی کرتا ہے، اس طرح ہندوستانی زندگی کی بہترین خصوصیت کو نشان زد کرتی ہے۔ عام بولا جانے والا ورژن ('بازار اردو') ہندی کے مقبول بولے جانے والے ورژن سے تقریباً ایک جیسا تھا۔ ہندوستان کے سب سے ممتاز علماء کا خیال ہے کہ اردو نہ تو مسلمان ہے اور نہ ہی ہندو کی زبان ہے۔ یہ ایک کثیر الثقافتی اور کثیر مذہبی تصادم کا نتیجہ ہے۔
Dua, Hans R. (1992).
Azad Qalamdaar (27 Dec 2010).
"Hamari History"
(بزبان انگریزی). Hamari Boli Foundation. Archived from
the original
on 2010-12-27.
تاریخی طور پر، ہندوستانی نے 12ویں صدی کے بعد کے عرصے میں آنے والے افغانوں اور ترکوں کے اثرات کے تحت شمال مغربی ہندوستان کے ذیلی علاقائی
اپ بھرنشوں
سے ایک لسانی طریقہ کار کے طور پر ترقی کی۔ اس کا پہلا بڑا لوک شاعر عظیم فارسی استاد، امیر خسرو (1253–1325ء) تھا، جس نے نئی تشکیل شدہ تقریر میں دوہے (جوڑے) اور پہیلیاں لکھی تھیں، جسے پھر 'ہندوی' کہا جاتا تھا۔ قرون وسطیٰ کے دوران، اس مخلوط تقریر کو مختلف تقریری ذیلی گروہوں نے مختلف طور پر 'ہندوی'، 'زبانِ ہند'، 'ہندی'، 'زبانِ دہلی'، 'ریختہ'، 'گجری' 'دکھنی'، 'زبانِ اردوئے معلی'، 'زبانِ اردو'، یا صرف 'اردو' کے نام سے پکارا تھا۔ 11ویں صدی کے آخر تک، 'ہندوستانی' نام کا رواج تھا اور یہ شمالی ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں زبان کی زبان بن گیا تھا۔ کھڑی/کھری بولی نامی ایک ذیلی بولی 13ویں صدی کے آغاز میں دہلی کے علاقے میں اور اس کے آس پاس بولی جاتی تھی جب دہلی سلطنت قائم ہوئی تھی۔ کھری بولی آہستہ آہستہ ہندوستانی (ہندی-اردو) کی وقار کی بولی بن گئی اور جدید معیاری ہندی اور اردو کی بنیاد بن گئی۔
Schmidt, Ruth Laila. "1 Brief history and geography of Urdu 1.1 History and sociocultural position."
Malik, Shahbaz, Shareef Kunjahi, Mir Tanha Yousafi, Sanawar Chadhar, Alam Lohar, Abid Tamimi, Anwar Masood et al.
سہیل احمد صدیقی (23 May 2021).
"رُہتکی رانگھڑی یا ہریانوی یعنی کھڑی بولی اُردو کی ماں | Express News"
ایکسپریس اردو
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2024-10-26
Tariq Rahman (2011)۔
From Hindi to Urdu : a social and political history
۔ Karachi۔
ISBN
978-0-19-906313-0
OCLC
731974235
{{
حوالہ کتاب
}}
: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (
link
M. Ashraf Bhat (2017)۔
The changing language roles and linguistic identities of the Kashmiri speech community
۔ Newcastle upon Tyne, UK۔
ISBN
978-1-4438-6260-8
OCLC
991595607
{{
حوالہ کتاب
}}
: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (
link
"A Historical Perspective of Urdu National Council for Promotion of …"
۔ 15 اکتوبر 2022۔ 2022-10-15 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
"A Historical Perspective of Urdu National Council for Promotion of …"
۔ 15 اکتوبر 2022۔ 2022-10-15 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
"A Historical Perspective of Urdu National Council for Promotion of …"
۔ 15 اکتوبر 2022۔ 2022-10-15 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
"اردو کا ایک تاریخی تناظر"
National council for Promotion of Urdu language
۔ Urdu council India۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 2022-10-15
۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 Oct, 2022
{{
حوالہ ویب
}}
تحقق من التاريخ في:
|تاریخ رسائی=
معاونت
اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (
link
Sujata Sudhakar Mody (2008).
Literature, Language, and Nation Formation: The Story of a Modern Hindi Journal 1900-1920
(بزبان انگریزی). University of California, Berkeley. p. 7.
...Hindustani, Rekhta, and Urdu as later names of the old Hindi (a.k.a. Hindavi).
English-Urdu Learner's Dictionary
(بزبان انگریزی). Multi Linguis. 6 Mar 2021.
ISBN
978-1-00-594089-8
** تاریخ (آسان کردہ) ** اولی ہند یورپی > اولی ہند ایرانی > اولی ہند آریائی > ویدک سنسکرت > کلاسیکی سنسکرت > شورسینی پراکرت > شورسینی اپ بھرنش > پرانی ہندی > ہندوستانی > اردو
B. S. Kesavan (1997).
History Of Printing And Publishing in India
(بزبان انگریزی). National Book Trust, India. p. 31.
ISBN
978-81-237-2120-0
یہاں یہ یاد کرنا مفید ہو گا کہ قدیم ہندی یا ہندوی جو کہ قدرتی طور پر فارسی کی سب سے بڑی زبان تھی، یہ کردار پہلے بھی، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، پانچ یا چھ صدیوں سے ادا کر چکے ہیں۔
Sisir Kumar Das (2005).
History of Indian Literature
(بزبان انگریزی). Sahitya Akademi. p. 142.
ISBN
978-81-7201-006-5
ہندی اردو کی تاریخ کا سب سے اہم رجحان ایک طرف فارسی کا عمل ہے اور دوسری طرف سنسکرت کا عمل۔ امرت رائے یہ ظاہر کرنے کے لیے ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اگرچہ ہندی/ہندوی یا پرانی ہندی جیسی زبان کے لیے فارسی عربی رسم الخط کا استعمال اردو کی علیحدہ شناخت کے قیام کی طرف پہلا قدم تھا؛ لیکن اسے طویل عرصے تک ہندی کہا جاتا رہا۔ ... "نئے نام میں حتمی اور مکمل تبدیلی اس وقت ہوئی جب زبان کے مواد میں زبردست تبدیلی آئی۔" وہ مزید لکھتے ہیں: "ہم تک جو ادب آیا ہے، اس کی روشنی میں، تقریباً چھ سو سالوں سے، ہندی/ہندوی کی ترقی بڑی حد تک دو زبانوں کے بنیادی اتحاد کے نظریے کو ثابت کرتی ہے۔ اٹھارویں صدی کی پہلی سہ ماہی میں ایسا لگتا ہے کہ دراڑ شروع ہو گئی ہے۔" رائے صادق سے نقل کرتے ہیں، جو بتاتے ہیں کہ یہ اٹھارویں صدی کے "شاعروں اور علماء کی ایک منظم پالیسی" بن گئی، جسے وہ "بے ہودہ الفاظ" کہتے اور سوچتے تھے۔ اس گھاس کو ختم کرنے کا مطلب یہ تھا کہ "کچھ کھردرے اور غیر موسیقی والے عام الفاظ کے ساتھ ہندی الفاظ کی ایک بڑی تعداد کا خاتمہ اس وجہ سے تھا کہ فارسی روایات میں پرورش پانے والے لوگوں کے نزدیک وہ غیر مانوس اور بے ہودہ لگتے تھے۔ صادق نے نتیجہ اخذ کیا: اس لیے یہ تضاد ہے کہ فارسی ظلم کے خلاف یہ صلیبی جنگ، اردو کو مقامی عنصر کے قریب لانے کے بجائے، حقیقت میں اس اور مقبول تقریر کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا کرنا تھی۔ لیکن جس چیز نے اردو کو مقامی بولیوں سے اب بھی زیادہ ممتاز کیا وہ فارسی سے مسلسل درآمد کا عمل تھا۔ یہ عجیب لگ سکتا ہے کہ فارسی کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اردو کے ادیبوں کو فارسی الفاظ، محاورات، صورتوں اور جذبات پر بہت زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ... 1875ء کے لگ بھگ اپنے کلام
اردو صرف و نحو
میں اس نے ایک متوازن نقطہ نظر پیش کیا جس کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ مولویوں کی فارسی اور پنڈتوں کی زبان کو سنسکرت بنانے کی کوششیں نہ صرف ایک غلطی تھی؛ بلکہ لسانیات کے فطری قوانین کے خلاف ورزی تھی۔ انھوں نے کہا کہ عام آدمی نے فارسی اور سنسکرت دونوں الفاظ بغیر کسی جھجھک کے استعمال کیے۔
مسعود حسین خان
(1984ء)۔
اردو زبان کی تاریخ کا خاکہ
علی گڑھ
: سر سید بک ڈپو، جامعہ اردو۔ ص 4، 19
"Urdu language | History, Origin, Script, Words, & Facts | Britannica"
www.britannica.com
(بزبان انگریزی). 23 Aug 2024
. Retrieved
2024-09-03
کولن پی. مسیکا (1991).
The Indo-Aryan languages
ہند آریائی زبانیں
] (بزبان انگریزی). انٹرنیٹ آرکائیو. کیمبرج، نیویارک:
کیمبرج یونیورسٹی پریس
. pp. 27–30.
ISBN
978-0-521-23420-7
B. S. Kesavan (1997).
History Of Printing And Publishing in India
(بزبان انگریزی). National Book Trust, India. p. 31.
ISBN
978-81-237-2120-0
یہاں یہ یاد کرنا مفید ہو گا کہ قدیم ہندی یا ہندوی جو کہ قدرتی طور پر فارسی کی سب سے بڑی زبان تھی، یہ کردار پہلے بھی، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، پانچ یا چھ صدیوں سے ادا کر چکے ہیں۔
M. Ashraf Bhat (2017).
The Changing Language Roles and Linguistic Identities of the Kashmiri Speech Community
(بزبان انگریزی). Cambridge Scholars Publishing. p. 72.
ISBN
978-1-4438-6260-8
اگرچہ اس نے بڑی تعداد میں لغوی اشیاء فارسی سے اور کچھ ترکی سے مستعار لی ہیں، لیکن یہ
ہندوی
(جسے
ابتدائی اردو
بھی کہا جاتا ہے) سے ماخوذ ہے، جو کہ جدید ہندی اور اردو دونوں کا مادر ہے۔ اس کی ابتدا دہلی کی ایک نئی، عام زبان کے طور پر ہوئی، جسے امیر خسرو نے
ہندوی
یا
دہلوی
کہا ہے۔ ہندوستانی تاریخ کے اسٹیج پر مغلوں کی آمد کے بعد،
ہندوی
زبان کو زیادہ جگہ اور قبولیت حاصل ہوئی۔ فارسی الفاظ و محاورات کا رواج ہوا۔ اس دور کی
ہندوی
کو
ریختہ
یا ہندوستانی کے نام سے جانا جاتا تھا اور بعد میں اردو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کامل دوستی اور رواداری نے
ریختہ
یا اردو کو فروغ دیا، جو تنوع میں اتحاد کے اصول کی نمائندگی کرتا ہے، اس طرح ہندوستانی زندگی کی بہترین خصوصیت کو نشان زد کرتی ہے۔ عام بولا جانے والا ورژن ('بازار اردو') ہندی کے مقبول بولے جانے والے ورژن سے تقریباً ایک جیسا تھا۔ ہندوستان کے سب سے ممتاز علماء کا خیال ہے کہ اردو نہ تو مسلمان ہے اور نہ ہی ہندو کی زبان ہے۔ یہ ایک کثیر الثقافتی اور کثیر مذہبی تصادم کا نتیجہ ہے۔
Jaroslav Strnad (2013).
Morphology and Syntax of Old Hindī: Edition and Analysis of One Hundred Kabīr vānī Poems from Rājasthān
(بزبان انگریزی). Brill Academic Publishers.
ISBN
978-90-04-25489-3
اسموں کا کافی مختلف گروپ جو دیر میں آخر
-a
کے ساتھ ہوتا ہے۔ جمع عربی یا فارسی اصل کے الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے جو پرانی ہندی نے اپنے فارسی جمع کے اختتام کے ساتھ لیا تھا۔
Tariq Rahman (2001)۔
From Hindi to Urdu: A Social and Political History
(PDF)
۔ Oxford University Press۔ ص 1–22۔
ISBN
978-0-19-906313-0
۔ 2014-10-10 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2014-10-07
Afroz Taj (1997).
"About Hindi-Urdu"
(بزبان انگریزی). The University of North Carolina at Chapel Hill. Archived from
the original
on 2009-08-15
. Retrieved
2019-06-30
"Amīr Khosrow - Indian poet"
Jaswant Lal Mehta (1980)۔
Advanced Study in the History of Medieval India
۔ Sterling Publishers Pvt. Ltd۔ ج 1۔ ص 10۔
ISBN
9788120706170
Shiri Ram Bakshi; Sangh Mittra (2002).
Hazart Nizam-Ud-Din Auliya and Hazrat Khwaja Muinuddin Chisti
(بزبان انگریزی). Criterion.
ISBN
9788179380222
"Urdu language"
Encyclopædia Britannica
Culture and Circulation: Literature in Motion in Early Modern India
۔ Brill۔ 2014۔
ISBN
9789004264489
Abdul Rashid Khan (2001).
The All India Muslim Educational Conference: Its Contribution to the Cultural Development of Indian Muslims, 1886-1947
(بزبان انگریزی). Oxford University Press. p. 152.
ISBN
978-0-19-579375-8
دکن کی فتح کے بعد اردو کو گولکنڈہ اور بیجاپور کے درباروں کی آزاد خیال سرپرستی حاصل ہوئی۔ نتیجتاً، اردو نے مقامی زبانوں تلگو اور مراٹھی کے ساتھ ساتھ سنسکرت سے الفاظ مستعار لیے۔
Bhanwarlal Nathuram Luniya (1978).
Life and Culture in Medieval India
(بزبان انگریزی). Kamal Prakashan. p. 311.
گولکنڈہ اور بیجاپور کی عدالتوں کی آزادانہ سرپرستی میں، اردو نے مقامی زبانوں جیسے تیلگو اور مراٹھی کے ساتھ ساتھ سنسکرت سے الفاظ مستعار لیے، لیکن اس کے موضوعات کو فارسی کے نمونوں پر ڈھالا گیا۔
Bellary Shamanna Kesavan (1985).
History of Printing and Publishing in India: Origins of printing and publishing in the Hindi heartland
(بزبان انگریزی). National Book Trust. p. 7.
ISBN
978-81-237-2120-0
دکن کے مسلمان اس طرح اپنی ہندوستانی زبان کو دکھنی (دکھنی)، گجری یا بھاکا (بھکا) کہتے تھے جو دکن اور جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کے فاتح اور حکمران گروہ سے تعلق کی علامت تھی جہاں ہندوؤں کی بڑی تعداد مراٹھی، کنڑ، تیلگو اور تامل زبانیں بولتی تھی۔
Tariq Rahman (2001)۔
From Hindi to Urdu: A Social and Political History
(PDF)
۔ Oxford University Press۔ ص 1–22۔
ISBN
978-0-19-906313-0
۔ 2014-10-10 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2014-10-07
M. Ashraf Bhat (2017).
The Changing Language Roles and Linguistic Identities of the Kashmiri Speech Community
(بزبان انگریزی). Cambridge Scholars Publishing. p. 72.
ISBN
978-1-4438-6260-8
اگرچہ اس نے بڑی تعداد میں لغوی اشیاء فارسی سے اور کچھ ترکی سے مستعار لی ہیں، لیکن یہ
ہندوی
(جسے
ابتدائی اردو
بھی کہا جاتا ہے) سے ماخوذ ہے، جو کہ جدید ہندی اور اردو دونوں کا مادر ہے۔ اس کی ابتدا دہلی کی ایک نئی، عام زبان کے طور پر ہوئی، جسے امیر خسرو نے
ہندوی
یا
دہلوی
کہا ہے۔ ہندوستانی تاریخ کے اسٹیج پر مغلوں کی آمد کے بعد،
ہندوی
زبان کو زیادہ جگہ اور قبولیت حاصل ہوئی۔ فارسی الفاظ و محاورات کا رواج ہوا۔ اس دور کی
ہندوی
کو
ریختہ
یا ہندوستانی کے نام سے جانا جاتا تھا اور بعد میں اردو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کامل دوستی اور رواداری نے
ریختہ
یا اردو کو فروغ دیا، جو تنوع میں اتحاد کے اصول کی نمائندگی کرتا ہے، اس طرح ہندوستانی زندگی کی بہترین خصوصیت کو نشان زد کرتی ہے۔ عام بولا جانے والا ورژن ('بازار اردو') ہندی کے مقبول بولے جانے والے ورژن سے تقریباً ایک جیسا تھا۔ ہندوستان کے سب سے ممتاز علماء کا خیال ہے کہ اردو نہ تو مسلمان ہے اور نہ ہی ہندو کی زبان ہے۔ یہ ایک کثیر الثقافتی اور کثیر مذہبی تصادم کا نتیجہ ہے۔
Mazhar Yusuf (1998)۔
Sind Quarterly:Volume 26, Issues 1-2
۔ ص 36
Malik, Muhammad Kamran, and Syed Mansoor Sarwar.
First Encyclopaedia of Islam: 1913–1936
(بزبان انگریزی). Brill Academic Publishers. 1993. p. 1024.
ISBN
9789004097964
جب کہ ہندوستان کے محمدی حکمران فارسی بولتے تھے، جسے ان کی درباری زبان ہونے کا اعزاز حاصل تھا، ملک کی عام زبان ہندی ہی رہی، جو سنسکرت سے پراکرت کے ذریعے اخذ کی گئی۔ عام لوگوں کی اس بولی پر فارسی زبان کی پیوند کاری کی گئی جس سے ایک نئی زبان اردو وجود میں آئی۔ سر جارج گریئرسن، لسانی سروے آف انڈیا میں، اردو کو کوئی الگ مقام نہیں دیتے، بلکہ اسے مغربی ہندی کی شاخ سمجھتے ہیں۔
Jaroslav Strnad (2013).
Morphology and Syntax of Old Hindī: Edition and Analysis of One Hundred Kabīr vānī Poems from Rājasthān
(بزبان انگریزی). Brill Academic Publishers.
ISBN
978-90-04-25489-3
اسموں کا کافی مختلف گروپ جو دیر میں آخر
-a
کے ساتھ ہوتا ہے۔ جمع عربی یا فارسی اصل کے الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے جو پرانی ہندی نے اپنے فارسی جمع کے اختتام کے ساتھ لیا تھا۔
Am.rta Rāya؛ Amrit Rai؛ Amr̥tarāya (1984)۔
A House Divided: The Origin and Development of Hindi/Hindavi
۔ Oxford University Press۔ ص 240۔
ISBN
978-0-19-561643-9
Michael G. Clyne (1992).
Pluricentric Languages: Differing Norms in Different Nations
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter. p. 383.
ISBN
978-3-11-012855-0
Rekhta Dictionary (5 اپریل 2022)۔
"Meaning of Urdu"
Rekhta dictionary
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2022-04-05
Alyssa Ayres (23 جولائی 2009)۔
Speaking Like a State: Language and Nationalism in Pakistan
۔ Cambridge University Press۔ ص
19
ISBN
978-0-521-51931-1
"Urdu's origin: it's not a 'camp language' - Newspaper - DAWN.COM"
۔ 17 مئی 2023۔ 2023-05-17 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
Language Problem in India
۔ Institute of Objective Studies۔ 1997۔ ص 138۔
ISBN
9788185220413
sir Richard Francis Burton, Luis Vaz de Camoens (1881)۔
Camoens: his life and his Lusiads, a commentary: Volume 2
۔ Oxford University۔ ص 573۔
کیموئنز کا "مور"، جس کا مطلب صرف "مسلم" ہے، اینگلو انڈینز کی ایک پچھلی نسل نے استعمال کیا تھا، جو اردو یا ہندوستانی بولی کو "مور" کہتے تھے۔
Henk W. Wagenaar؛ S. S. Parikh؛ D. F. Plukker؛ R. Veldhuijzen van Zanten (1993)۔
Allied Chambers transliterated Hindi-Hindi-English dictionary
۔ Allied Publishers۔
ISBN
9788186062104
John Ovington (1994)۔
A Voyage to Surat in the Year 1689
۔ Asian Educational Services۔ ص 147
Zahiruddin Malik (1977)۔
The Reign Of Muhammad Shah 1919-1748
Deutsche Morgenländische Gesellschaft (1969)۔
Zeitschrift der Deutschen Morgenländischen Gesellschaft:Volume 119
۔ Kommissionsverlag F. Steiner۔ ص 267
Tariq Rahman (2001)۔
From Hindi to Urdu: A Social and Political History
(PDF)
۔ Oxford University Press۔ ص 1–22۔
ISBN
978-0-19-906313-0
۔ 2014-10-10 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2014-10-07
John Coatsworth (2015)۔
Global Connections: Politics, Exchange, and Social Life in World History
۔ United States: Cambridge Univ Pr۔ ص 159۔
ISBN
978-0-521-76106-2
Afroz Taj (1997).
"About Hindi-Urdu"
(بزبان انگریزی). The University of North Carolina at Chapel Hill. Archived from
the original
on 2009-08-15
. Retrieved
2019-06-30
Richard Delacy؛ Shahara Ahmed (2005)۔
Hindi, Urdu & Bengali
۔ Lonely Planet۔ ص 11–12۔
ہندی اور اردو کو عام طور پر دو مختلف ادبی روایات کے ساتھ ایک بولی جانے والی زبان سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندی اور اردو بولنے والوں کو جو ایک ہی بازاروں میں خریداری کرتے ہیں (اور ایک ہی بالی ووڈ فلمیں دیکھتے ہیں) کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی -- وہ دونوں یہ کہتے ہیں 'کتنے' کا ہے 'کتنے کا ہے؟' -- لیکن ہندی کی تحریری شکل یہ ہوگی कि यह कितने का है? اور اردو یہ کتنی ہوگی؟ ہندی دیوناگری رسم الخط میں بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے، اور انگریزی کے ساتھ ہندوستان کی سرکاری زبان ہے۔ دوسری طرف، اردو کو نستعلیق رسم الخط (عربی رسم الخط کی ایک ترمیم شدہ شکل) میں دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے اور یہ پاکستان کی قومی زبان ہے۔ یہ بھارتی ریاستوں بہار اور جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ ایک کے طور پر سمجھا جاتا ہے، یہ زبانیں دنیا کی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہیں، جسے کبھی کبھی ہندوستانی بھی کہا جاتا ہے۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں، ہندی اور اردو بولنے والے اپنی 'مختلف' زبانوں میں بغیر کسی بڑی پریشانی کے بات چیت کرتے ہیں۔ ... ہندی اور اردو دونوں کی ترقی کلاسیکی سنسکرت سے ہوئی، جو عام دور کے آغاز میں وادی سندھ (جدید پاکستان اور شمال مغربی ہندوستان) میں نمودار ہوئی۔ پہلی پرانی ہندی (یا اپ بھرنش) شاعری 769 عیسوی میں لکھی گئی تھی، اور یورپی قرون وسطی سے یہ 'ہندوی' کے نام سے مشہور ہوئی۔ مسلم ترکوں نے 1027ء میں پنجاب پر حملہ کیا اور 1193ء میں دہلی پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے اسلامی مغل سلطنت کے لیے راہ ہموار کی، جس نے 16ویں صدی سے لے کر 19ویں صدی کے وسط میں برطانوی راج کے ہاتھوں شکست تک شمالی ہندوستان پر حکومت کی۔ یہ وہ وقت تھا جب اس کتاب کی زبان عربی، فارسی اور ترکی کے الفاظ کے ساتھ ہندوی گرامر کا مرکب بننا شروع ہوئی۔ ہندوی کے مسلمان بولنے والوں نے عربی رسم الخط میں لکھنا شروع کیا، اردو تخلیق کی، جب کہ ہندو آبادی نے نئے الفاظ شامل کیے لیکن دیوناگری رسم الخط میں لکھنا جاری رکھا۔
P. M. Holt؛ Ann K. S. Lambton؛ Bernard Lewis، مدیران (1977)۔
The Cambridge History of Islam
۔ Cambridge: Cambridge University Press۔ ص 723۔
ISBN
0-521-29138-0
Sanjay Subrahmanyam (2017)۔
Europe's India: Words, People, Empires, 1500–1800
۔ Harvard University Press۔
ISBN
978-0-674-97755-6
Christine Everaert (2010)۔
Tracing the Boundaries Between Hindi and Urdu
ISBN
978-9004177314
Siddheshwar Varma (1973)۔
G. A. Grierson's Linguistic Survey of India
Abdul Jamil Khan (2006)۔
Urdu/Hindi: An Artificial Divide: African Heritage, Mesopotamian Root
ISBN
978-0-87586-437-2
David Prochaska, Edmund Burke III (جولائی 2008)۔
Genealogies of Orientalism: History, Theory, Politics
۔ Nebraska Paperback
John Hutchinson; Anthony D. Smith (2000).
Nationalism: Critical Concepts in Political Science
(بزبان انگریزی). Taylor & Francis.
ISBN
978-0-415-20112-4
شمالی ہندوستان میں انیسویں صدی میں، سرکاری اسکولوں کے برطانوی نظام کی توسیع سے پہلے، اردو کو اپنی تحریری شکل میں روایتی اسلامی اسکولوں میں ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، جہاں مسلمان بچوں کو فارسی اور عربی پڑھائی جاتی تھی، جو کہ کی روایتی زبانیں ہیں۔ اسلام اور مسلم ثقافت۔ یہ تب ہی تھا جب شمالی ہند کے مسلم اشرافیہ اور انگریزوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مسلمان ہندوؤں کے مقابلے میں تعلیم میں پسماندہ ہیں اور انہیں سرکاری اسکولوں میں جانے کی ترغیب دی جانی چاہیے کہ اس کے لیے فارسی عربی رسم الخط میں اردو پڑھنا ضروری سمجھا گیا۔ مسلمان سکولوں میں حاضری دیں۔ اور ہندی-اردو تنازعہ کے پیدا ہونے کے بعد ہی اردو، جسے کبھی شمالی ہندوستان میں مسلم اشرافیہ نے حقیر سمجھا اور انیسویں صدی کے اوائل میں مسلم مذہبی اسکولوں میں بھی نہیں پڑھایا جاتا تھا، خود اسلام کے بعد دوسرے نمبر پر مسلم شناخت کی علامت بن گئی۔ شمالی ہندوستان میں ہندی-اردو تنازعہ سے سامنے آنے والا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ علامتوں کا استعمال ان لوگوں کو الگ کرنے کے لیے کیسے کیا جا سکتا ہے جو درحقیقت ثقافت کے پہلوؤں کو بانٹتے ہیں۔ یہ بات مشہور ہے کہ عام مسلمان اور ہندو انیسویں صدی میں متحدہ صوبوں میں ایک ہی زبان بولتے تھے، یعنی ہندوستانی، چاہے اس نام سے پکارا جائے یا ہندی، اردو، یا برج یا اودھی جیسی علاقائی بولیوں میں سے کوئی ایک۔ اگرچہ انیسویں صدی میں مختلف سماجی طبقات اور اسٹیٹس گروپس کے درمیان ہندی-اردو کے مختلف انداز استعمال میں تھے، لیکن عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں قانونی اور انتظامی اشرافیہ، ہندو اور مسلمان یکساں، فارسی-عربی رسم الخط میں اردو کا استعمال کرتے تھے۔
Sachchidananda Sinha (1911)۔
The Hindustan Review: Volume 23
۔ University of Wisconsin- Madison۔ ص 243
Richard Delacy؛ Shahara Ahmed (2005)۔
Hindi, Urdu & Bengali
۔ Lonely Planet۔ ص 11–12۔
ہندی اور اردو کو عام طور پر دو مختلف ادبی روایات کے ساتھ ایک بولی جانے والی زبان سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندی اور اردو بولنے والوں کو جو ایک ہی بازاروں میں خریداری کرتے ہیں (اور ایک ہی بالی ووڈ فلمیں دیکھتے ہیں) کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی -- وہ دونوں یہ کہتے ہیں 'کتنے' کا ہے 'کتنے کا ہے؟' -- لیکن ہندی کی تحریری شکل یہ ہوگی कि यह कितने का है? اور اردو یہ کتنی ہوگی؟ ہندی دیوناگری رسم الخط میں بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے، اور انگریزی کے ساتھ ہندوستان کی سرکاری زبان ہے۔ دوسری طرف، اردو کو نستعلیق رسم الخط (عربی رسم الخط کی ایک ترمیم شدہ شکل) میں دائیں سے بائیں لکھا جاتا ہے اور یہ پاکستان کی قومی زبان ہے۔ یہ بھارتی ریاستوں بہار اور جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ ایک کے طور پر سمجھا جاتا ہے، یہ زبانیں دنیا کی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہیں، جسے کبھی کبھی ہندوستانی بھی کہا جاتا ہے۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں، ہندی اور اردو بولنے والے اپنی 'مختلف' زبانوں میں بغیر کسی بڑی پریشانی کے بات چیت کرتے ہیں۔ ... ہندی اور اردو دونوں کی ترقی کلاسیکی سنسکرت سے ہوئی، جو عام دور کے آغاز میں وادی سندھ (جدید پاکستان اور شمال مغربی ہندوستان) میں نمودار ہوئی۔ پہلی پرانی ہندی (یا اپبھرنشا) شاعری 769 عیسوی میں لکھی گئی تھی، اور یورپی قرون وسطی سے یہ 'ہندوی' کے نام سے مشہور ہوئی۔ مسلم ترکوں نے 1027 میں پنجاب پر حملہ کیا اور 1193 میں دہلی پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے اسلامی مغل سلطنت کے لیے راہ ہموار کی، جس نے 16ویں صدی سے لے کر 19ویں صدی کے وسط میں برطانوی راج کے ہاتھوں شکست تک شمالی ہندوستان پر حکومت کی۔ یہ وہ وقت تھا جب اس کتاب کی زبان عربی، فارسی اور ترکی کے الفاظ کے ساتھ ہندوی گرامر کا مرکب بننا شروع ہوئی۔ ہندوی کے مسلمان بولنے والوں نے عربی رسم الخط میں لکھنا شروع کیا، اردو تخلیق کی، جب کہ ہندو آبادی نے نئے الفاظ شامل کیے لیکن دیوناگری رسم الخط میں لکھنا جاری رکھا۔
Syed Ameer Ali (1989).
The Right Hon'ble Syed Ameer Ali: Political Writings
(بزبان انگریزی). APH Publishing. p. 33.
ISBN
978-81-7024-247-5
Michael Clyne (24 May 2012).
Pluricentric Languages: Differing Norms in Different Nations
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter.
ISBN
978-3-11-088814-0
Christopher Rolland King (1999).
One Language, Two Scripts: The Hindi Movement in Nineteenth Century North India
(بزبان انگریزی). Oxford University Press. p. 78.
ISBN
978-0-19-565112-6
برطانوی زبان کی پالیسی دونوں بڑے سیاسی عملوں کے نتیجے میں اور اس میں حصہ ڈالی جس کے نتیجے میں برطانوی ہندوستان کو ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کیا گیا، جس کا نتیجہ ہندی-اردو تسلسل کی لسانی تقسیم کے بالکل متوازی طور پر انتہائی سنسکرت زدہ ہندی اور اعلیٰ فارسی اردو میں ہوا۔
Irfan Ahmad (20 Nov 2017).
Religion as Critique: Islamic Critical Thinking from Mecca to the Marketplace
(بزبان انگریزی). UNC Press Books.
ISBN
978-1-4696-3510-1
بہت سے بڑے ہندو شاعر ہوئے ہیں اور ہیں جنہوں نے اردو میں لکھا ہے۔ اور انہوں نے ہندو مذہب کو اردو میں اس کی مذہبی کتابیں پڑھ کر سیکھا۔ گلزار دہلوی - جن کا غیر ادبی نام آنند موہن زوتشی (پیدائش 1926) ہے - بہت سی مثالوں میں سے ایک ہے۔
Aijazuddin Ahmad (2009).
Geography of the South Asian Subcontinent: A Critical Approach
(بزبان انگریزی). Concept Publishing Company. p. 119.
ISBN
978-81-8069-568-1
Rahman Tariq۔
Urdu in Hyderabad State
(PDF)
۔ The Annual of Urdu Studies
Ali Raj (30 Apr 2017).
"The case for Urdu as Pakistan's official language"
Herald Magazine
(بزبان انگریزی). Archived from
the original
on 2019-10-28
. Retrieved
2019-12-03
Walter Hakala (2012)۔
"Languages as a Key to Understanding Afghanistan's Cultures"
(PDF)
Afghanistan: Multidisciplinary Perspectives
۔ 2018-03-14 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2023-07-20
Rajeshwari Krishnamurthy (28 Jun 2013).
"Kabul Diary: Discovering the Indian connection"
(بزبان انگریزی). Gateway House: Indian Council on Global Relations
. Retrieved
2018-03-13
ملک میں ہندوستانی سنیما کی مقبولیت کی بدولت کابل میں زیادہ تر افغان ہندی سمجھتے اور/یا بولتے ہیں۔
"Who Can Be Pakistani?"
thediplomat.com
(بزبان امریکی انگریزی). Archived from
the original
on 2019-10-28
. Retrieved
2019-10-28
R. Vanita (2012).
Gender, Sex, and the City: Urdu Rekhti Poetry in India, 1780-1870
(بزبان انگریزی). |Springer.
ISBN
978-1-137-01656-0
غیر جنس پرستی کی مہمیں اردو کو سنسکرت اور پراکرت الفاظ سے پاک کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اسی وقت شروع ہوئیں جب ہندی کے ادیبوں نے ہندی کو فارسی اور عربی الفاظ سے پاک کرنے کی کوشش کی۔ انیسویں صدی کے اواخر میں اردو اور ہندی کی سیاست، جو بعد میں ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں نے بڑھا دی، اس کا بدقسمتی سے نتیجہ یہ نکلا کہ بعض شاعروں کو کینن سے نکال دیا گیا۔
Laetitia Zecchini (31 Jul 2014).
Arun Kolatkar and Literary Modernism in India: Moving Lines
(بزبان انگریزی). A&C Black.
ISBN
978-1-62356-558-9
Bruce, Gregory Maxwell. "2 The Arabic Element".
C. Shackle (1990).
Hindi and Urdu Since 1800: A Common Reader
(بزبان انگریزی). Heritage Publishers.
ISBN
9788170261629
A History of Indian Literature: Struggle for freedom: triumph and tragedy, 1911–1956
(بزبان انگریزی). Sahitya Akademi. 1991.
ISBN
9788179017982
Braj Kachru (2015).
Collected Works of Braj B. Kachru: Volume 3
(بزبان انگریزی). Bloomsbury Publishing.
ISBN
978-1-4411-3713-5
اردو کا انداز، یہاں تک کہ پاکستان میں بھی، "اعلی" اردو سے بول چال کی اردو میں تبدیل ہو رہا ہے (زیادہ ہندوستانی کی طرح، جس سے ایم کے گاندھی خوش ہوتے)۔
Harry S. Ashmore (1961).
Encyclopaedia Britannica: a new survey of universal knowledge, Volume 11
(بزبان انگریزی). Encyclopædia Britannica. p. 579.
ہندوستان کے شمال اور مغربی پاکستان میں تمام برادریوں کے 50,000,000 سے زیادہ افراد کی روزمرہ کی تقریر ایک مشترکہ زبان ہندوستانی کا اظہار ہے۔
Oh Calcutta, Volume 6
۔ 1977۔ ص 15
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ اردو ایک دم توڑتی ہوئی زبان ہے۔ جسے عام طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا وہ یہ ہے کہ یہ ایک دم توڑتی ہوئی قومی زبان ہے۔ جسے ہندوستانی کہا جاتا تھا، ہندوستانیوں کی سب سے بڑی تعداد کی بولی جانے والی زبان، سنسکرت کے ماہرین تعلیم سے زیادہ اردو کے عناصر پر مشتمل ہے، لیکن یہ اب بھی لوگوں کی زبان ہے۔
"Urdu Is Alive and Moving Ahead With Times: Gulzar"
(بزبان انگریزی). Outlook. 13 Feb 2006
. Retrieved
2021-09-20
Gulzar (11 Jun 2006).
"Urdu is not dying: Gulzar"
(بزبان انگریزی). The Hindustan Times.
Shoaib Daniyal (1 Jun 2016).
"The death of Urdu in India is greatly exaggerated – the language is actually thriving"
(بزبان انگریزی). Scroll.in
. Retrieved
2021-09-19
Ali Husain Mir؛ Raza Mir (2006)۔
Anthems of Resistance: A Celebration of Progressive Urdu Poetry
۔ New Delhi: Roli Books Private Limited۔ ص 118۔
ISBN
9789351940654
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
'مرتی ہوئی زبان' جیسے جملے اکثر ہندوستان میں اردو کی حالت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور 'اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد' جیسے اشارے موجودہ حالات اور زبان کے مستقبل کے حوالے سے بری خبروں کا ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
Journal of the Faculty of Arts, Volume 2
۔ Aligarh Muslim University۔ 1996۔ ص 42
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
اروند کالا اس وقت زیادہ نشان زد نہیں ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ 'اردو ایک مرتی ہوئی زبان ہے (ہندوستان میں)، لیکن یہ ہندی فلموں کے ڈائیلاگ ہیں جنہوں نے ہندوستان میں اردو کی تعریف میں اضافہ کیا ہے۔ ہندی فلموں کی بدولت، اردو کے علم کو شمال کے جاننے والوں میں نفاست کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔'
Khushwant Singh (2011)۔
Celebrating the Best of Urdu Poetry
۔ Penguin UK۔ ص 9–10۔
ISBN
9789386057334
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
Hanan Irfan (15 جولائی 2021)۔
"The Burden of Urdu Must Be Shared"
LiveWire
۔ 2023-04-28 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
Shoaib Daniyal (4 جولائی 2018)۔
"Surging Hindi, shrinking South Indian languages: Nine charts that explain the 2011 language census"
Scroll.in
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
John Willoughby & Zehra Aftab (2020)۔
"The Fall of Urdu and the Triumph of English in Pakistan: A Political Economic Analysis"
(PDF)
PIDE Working Papers
۔ Pakistan Institute of Development Economics
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
Paul R. Brass (2005)۔
Language, Religion and Politics in North India
۔ Cambridge: Cambridge University Press۔ ص 136۔
ISBN
978-0-595-34394-2
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
ہندی اور اردو کے درمیان تفریق کا باعث بننے والی تیسری قوت ہندو اور مسلم احیاء اور فرقہ وارانہ دشمنی کی متوازی اور منسلک ترقی تھی، جس کا نتیجہ ہندی-اردو تنازعہ کے نتیجے میں اردو کو مسلمانوں اور ہندی کی زبان کے طور پر شناخت کرنے کے رجحان کو تقویت دینے کے لیے نکلا۔ ہندوؤں کی زبان کے طور پر اگرچہ معروضی طور پر یہ آج بھی پوری طرح سے درست نہیں ہے، لیکن یہ ناقابل تردید ہے کہ تاریخی رجحان اس طرف رہا ہے۔ (...) بہت سے ہندو بھی اردو میں لکھتے رہتے ہیں، ادب اور ذرائع ابلاغ دونوں میں۔ تاہم، اردو میں ہندو مصنفین ایک دم توڑتی ہوئی نسل ہیں اور ہندی اور اردو تیزی سے موضوعی طور پر الگ الگ زبانیں بن گئی ہیں جن کی شناخت مختلف مذہبی برادریوں سے ہوتی ہے۔
Christine Everaert (2010)۔
Tracing the Boundaries Between Hindi and Urdu: Lost and Added in Translation Between 20th Century Short Stories
۔ Leiden: Brill۔ ص 77–79۔
ISBN
9789004177314
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
John Willoughby & Zehra Aftab (2020)۔
"The Fall of Urdu and the Triumph of English in Pakistan: A Political Economic Analysis"
(PDF)
PIDE Working Papers
۔ Pakistan Institute of Development Economics
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-08-01
"Statement – 1: Abstract of speakers' strength of languages and mother tongues – 2001"
۔ Government of India۔ 2001۔ 2008-04-04 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2016-10-04
ORGI۔
"Census of India: Comparative speaker's strength of Scheduled Languages-1951, 1961, 1971, 1981, 1991 ,2001 and 2011"
(PDF)
"Government of Pakistan: Population by Mother Tongue"
(PDF)
۔ Pakistan Bureau of Statistics۔ 2014-10-10 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
"Hindustani"
Columbia University press
۔ encyclopedia.com۔ 2017-07-29 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
e.g.
Ruth Laila Schmidt (8 Dec 2005).
Urdu: An Essential Grammar
(بزبان انگریزی). Routledge.
ISBN
978-1-134-71319-6
تاریخی طور پر، اردو دہلی کے علاقے کی ذیلی علاقائی زبان سے تیار ہوئی، جو اٹھارویں صدی میں ایک ادبی زبان بن گئی۔ زبان کی دو بالکل ملتی جلتی معیاری شکلیں دہلی میں اور جدید اتر پردیش کے لکھنؤ میں تیار ہوئیں۔ 1947 کے بعد سے، کراچی کی معیاری اردو، ایک تیسری شکل تیار ہوئی ہے۔
Abdul Rashid Khan (2001).
The All India Muslim Educational Conference: Its Contribution to the Cultural Development of Indian Muslims, 1886-1947
(بزبان انگریزی). Oxford University Press. p. 152.
ISBN
978-0-19-579375-8
دکن کی فتح کے بعد اردو کو گولکنڈہ اور بیجاپور کے درباروں کی آزاد خیال سرپرستی حاصل ہوئی۔ نتیجتاً، اردو نے مقامی زبانوں تلگو اور مراٹھی کے ساتھ ساتھ سنسکرت سے الفاظ مستعار لیے۔
Jan Gube; Fang Gao (2019).
Education, Ethnicity and Equity in the Multilingual Asian Context
(بزبان انگریزی). Springer Publishing.
ISBN
978-981-13-3125-1
ہندوستان اور پاکستان کی قومی زبان 'معیاری اردو' 'معیاری ہندی' کے ساتھ باہمی طور پر قابل فہم ہے کیونکہ دونوں زبانیں ایک ہی ہندی بنیاد رکھتی ہیں اور سب کچھ ہیں لیکن صوتیات میں الگ نہیں ہیں۔
"PAKISTAN"
Official U.S. Marine Corps
۔ 2022-01-31 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2022-02-05
The World Factbook
(بزبان انگریزی). Central Intelligence Agency. 1992. p. 264.
"Who Can Be Pakistani?"
thediplomat.com
(بزبان امریکی انگریزی). Archived from
the original
on 2019-10-28
. Retrieved
2019-10-28
M. Rieker; K. Ali (26 May 2008).
Gendering Urban Space in the Middle East, South Asia, and Africa
(بزبان انگریزی). Springer.
ISBN
978-0-230-61247-1
Nikky-Guninder Kaur Singh (30 Nov 2012).
Of Sacred and Secular Desire: An Anthology of Lyrical Writings from the Punjab
(بزبان انگریزی). Bloomsbury Publishing.
ISBN
978-0-85772-139-6
"Why Punjabis in Pakistan Have Abandoned Punjabi"
Fair Observer
۔ 14 جولائی 2020
"EDUCATION SYSTEM PROFILES Education in Pakistan"
World Education Services
۔ 25 فروری 2020۔
انگریزی نوآبادیاتی دور سے ابتدائی اور ثانوی سطحوں پر تعلیم کی بنیادی زبان رہی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں یہ تدریس کی بنیادی زبان ہے لیکن سرکاری اسکولوں میں اسے تیزی سے اردو سے بدل دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ پنجاب نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 2020ء سے اسکولوں میں اردو کو خصوصی ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دے گا۔ مقام کے لحاظ سے اور بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں، علاقائی زبانیں بھی استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر ابتدائی تعلیم میں۔ اعلیٰ تعلیم میں تدریس کی زبان زیادہ تر انگریزی ہے، لیکن کچھ پروگرام اور ادارے اردو میں پڑھاتے ہیں۔
Aijazuddin Ahmad (2009).
Geography of the South Asian Subcontinent: A Critical Approach
(بزبان انگریزی). Concept Publishing Company.
ISBN
978-81-8069-568-1
Hans Henrich Hock; Elena Bashir (24 May 2016).
The Languages and Linguistics of South Asia: A Comprehensive Guide
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter GmbH & Co KG.
ISBN
978-3-11-042330-3
Ali Raj (30 Apr 2017).
"The case for Urdu as Pakistan's official language"
Herald Magazine
(بزبان انگریزی). Archived from
the original
on 2019-10-28
. Retrieved
2019-10-28
SC orders immediate implementation of Urdu as official language | Pakistan | Dunya News
"National Languages Policy Recommendation Commission"
(PDF)
۔ MOE Nepal۔ 1994۔ ص Appendix one۔ 2023-03-26 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2021-03-14
"Urdu"
"Is Urdu losing its charm in Bollywood films?"
Deccan Herald
(بزبان انگریزی). 27 Feb 2021
. Retrieved
2023-05-19
Jayson Beaster-Jones (9 Oct 2014).
Bollywood Sounds: The Cosmopolitan Mediations of Hindi Film Song
(بزبان انگریزی). Oxford University Press.
ISBN
978-0-19-999348-2
"Urdu newspapers: growing, not dying"
asu.thehoot.org
۔ 2021-02-26 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2020-09-06
"Highest Circulated amongst ABC Member Publications Jan - Jun 2017"
(PDF)
۔ Audit Bureau of Circulations
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2020-09-12
"Most Pakistanis and Urdu speakers live in this Australian state"
SBS Your Language
(بزبان انگریزی). sbs.com.au.
"Árabe y urdu aparecen entre las lenguas habituales de Catalunya, creando peligro de guetos"
۔ Europapress.es۔ 29 جون 2009۔ 2012-01-18 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2011-12-18
Ali Raj (30 Apr 2017).
"The case for Urdu as Pakistan's official language"
Herald Magazine
(بزبان انگریزی). Archived from
the original
on 2019-10-28
. Retrieved
2019-12-03
"Government of Pakistan: Population by Mother Tongue"
(PDF)
۔ Pakistan Bureau of Statistics۔ 2006-02-17 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
پاکستان کی نچلی عدالتوں میں، اردو میں کارروائی ہونے کے باوجود دستاویزات انگریزی میں ہیں، جب کہ اعلیٰ عدالتوں، یعنی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں، دستاویزات اور کارروائی دونوں انگریزی میں ہیں۔
Tariq Rahman (2010)۔
Language Policy, Identity and Religion
(PDF)
۔ Islamabad: Quaid-i-Azam University۔ ص 59۔ 2014-10-21 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2014-10-18
Faqir Hussain (14 Jul 2015).
"Language change"
DAWN.COM
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2019-12-03
Akhtarul Wasey (16 جولائی 2014)۔
"50th Report of the Commissioner for Linguistic Minorities in India (July 2012 to June 2013)"
(PDF)
۔ 2016-07-08 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2016-10-20
Devika Paliwal (24 ستمبر 2020)۔
"Parliament Nod to Bill for Declaration of 5 Official Languages for J&K"
۔ Law Times Journal
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2022-06-24
Michael Clyne (24 May 2012).
Pluricentric Languages: Differing Norms in Different Nations
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter. p. 395.
ISBN
978-3-11-088814-0
Christine Everaert (2010).
Tracing the Boundaries Between Hindi and Urdu: Lost and Added in Translation Between 20th Century Short Stories
(بزبان انگریزی). BRILL. p. 225.
ISBN
978-90-04-17731-4
"The Constitution of Jammu and Kashmir"
(PDF)
۔ 2012-05-07 کو
اصل
(PDF)
سے آرکائیو کیا گیا
"Hindi and Urdu are classified as literary registers of the same language"
۔ 2016-06-02 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
Rakesh Peter-Dass (2019).
Hindi Christian Literature in Contemporary India
(بزبان انگریزی). Routledge.
ISBN
978-1-00-070224-8
ایک ہی زبان کی دو شکلیں، نگرائی ہندی اور فارسی ہندی (اردو) کی گرامر ایک جیسی تھی، مشترک الفاظ اور اصول تھے، اور مختلف رسم الخط استعمال کیے گئے تھے۔
Manisha Basu (2017)۔
The Rhetoric of Hindutva
۔ Cambridge University Press۔
ISBN
978-1-107-14987-8
اردو، ہندی کی طرح، ہندوستانی زبان کا ایک معیاری رجسٹر تھا جو دہلوی بولی سے ماخوذ تھا اور اٹھارویں صدی میں مغلوں کے دور حکومت میں ابھرا۔
Jan Gube; Fang Gao (2019).
Education, Ethnicity and Equity in the Multilingual Asian Context
(بزبان انگریزی). Springer Publishing.
ISBN
978-981-13-3125-1
ہندوستان اور پاکستان کی قومی زبان 'معیاری اردو' 'معیاری ہندی' کے ساتھ باہمی طور پر قابل فہم ہے کیونکہ دونوں زبانیں ایک ہی ہندی بنیاد رکھتی ہیں اور سب کچھ ہیں لیکن صوتیات میں الگ نہیں ہیں۔
Kathleen Kuiper (2010).
The Culture of India
(بزبان انگریزی). Rosen Publishing.
ISBN
978-1-61530-149-2
اردو کا ہندی سے گہرا تعلق ہے، ایک ایسی زبان جس کی ابتدا اور ترقی برصغیر پاک و ہند میں ہوئی۔ وہ ایک ہی ہندی بنیاد رکھتے ہیں اور صوتیات اور گرامر میں اس قدر مماثلت رکھتے ہیں کہ وہ ایک ہی زبان لگتے ہیں۔
"Bringing Order to Linguistic Diversity: Language Planning in the British Raj"
۔ Language in India۔ 2008-05-26 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2008-05-20
"A Brief Hindi – Urdu FAQ"
۔ sikmirza۔ 2007-12-02 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2008-05-20
"Hindi/Urdu Language Instruction"
۔ University of California, Davis۔ 2015-01-03 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2015-01-03
"Urdu and its Contribution to Secular Values"
۔ South Asian Voice۔ 2007-11-11 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2008-02-26
The Annual of Urdu studies, number 11, 1996, "Some notes on Hindi and Urdu", pp. 203–208.
Christine Everaert (2010).
Tracing the Boundaries Between Hindi and Urdu: Lost and Added in Translation Between 20th Century Short Stories
(بزبان انگریزی). BRILL. p. 225.
ISBN
978-90-04-17731-4
"Is Urdu losing its charm in Bollywood films?"
Deccan Herald
(بزبان انگریزی). 27 Feb 2021
. Retrieved
2023-05-19
Michael C. Shapiro; Harold F. Schiffman (2019).
Language and Society in South Asia
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter GmbH & Co KG. p. 53.
ISBN
978-3-11-085763-4
Michael Clyne (24 May 2012).
Pluricentric Languages: Differing Norms in Different Nations
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter. p. 391.
ISBN
978-3-11-088814-0
"A Brief Hindi – Urdu FAQ"
۔ sikmirza۔ 2007-12-02 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2008-05-20
"South Asia :: India – The World Factbook – Central Intelligence Agency"
www.cia.gov
۔ 2008-06-11 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2019-10-22
"Urdu | Ethnologue Free"
Ethnologue (Free All)
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2023-03-19
"Urdu | Ethnologue Free"
Ethnologue (Free All)
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2023-03-19
"Middle East :: Saudi Arabia – The World Factbook – Central Intelligence Agency"
www.cia.gov
۔ 2019-01-08 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2019-11-01
"Urdu | Ethnologue Free"
Ethnologue (Free All)
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2023-03-19
"South Asia :: Nepal – The World Factbook – Central Intelligence Agency"
www.cia.gov
۔ 2018-12-26 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2019-10-22
"Nepal Census"
(PDF)
"Afghanistan | Ethnologue Free"
Ethnologue (Free All)
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2023-03-19
"Afghanistan | Ethnologue Free"
Ethnologue (Free All)
(بزبان انگریزی)
. Retrieved
2023-03-19
"South Asia :: Bangladesh – The World Factbook – Central Intelligence Agency"
www.cia.gov
۔ 2017-12-29 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2019-11-03
"Bangladesh: Urdu-Speaking 'Biharis' Seek Recognition, Respect and Rights"
(بزبان امریکی انگریزی). International Republican Institute. Archived from
the original
on 2022-09-26
. Retrieved
2022-09-26
"Europe :: United Kingdom – The World Factbook – Central Intelligence Agency"
www.cia.gov
۔ 2019-01-07 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2019-11-01
"North America :: United States – The World Factbook – Central Intelligence Agency"
www.cia.gov
۔ 2018-12-26 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2019-11-01
"Detailed Languages Spoken at Home and Ability to Speak English for the Population 5 Years and Over for United States: 2009-2013"
"North America :: Canada – The World Factbook – Central Intelligence Agency"
www.cia.gov
۔ 2018-12-24 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2019-11-01
"Linguistic diversity and multilingualism in Canadian homes"
۔ Statistics Canada۔ 2 اگست 2017
"Farhang-e-Asifiya"
[فرہنگِ آصفیہ]۔
Urdu Gah
Aijaz Ahmad (2002).
Lineages of the Present: Ideology and Politics in Contemporary South Asia
(بزبان انگریزی). Verso. p. 113.
ISBN
978-1-85984-358-1
اس پر آبادی کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ قابل اعتماد اعدادوشمار ہیں۔
فرہنگِ آصفیہ
عام اتفاق سے اردو کی سب سے معتبر لغت ہے۔ اسے انیسویں صدی کے اواخر میں ایک ہندوستانی اسکالر نے مرتب کیا تھا جو برطانوی یا مستشرقین کے اسکالرشپ سے بہت کم واقف تھا۔ زیر بحث لغت نگار، سید احمد دہلوی، اردو کے فارسی کے تعلق کو کم کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے، جیسا کہ ان کی لغت کے عنوان سے بھی ظاہر ہے۔ اس کا اندازہ ہے کہ اس نے اپنی لغت میں جو 55,000 اردو الفاظ مرتب کیے ہیں ان میں سے تقریباً 75 فیصد سنسکرت اور پراکرت سے ماخوذ ہیں، اور زبان کے بنیادی الفاظ کا پورا ذخیرہ، بغیر کسی استثنا کے، انہی ذرائع سے اخذ کیا گیا ہے۔ جو چیز اردو کو بہت سی دوسری ہندوستانی زبانوں سے ممتاز کرتی ہے... وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے الفاظ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہندوستان کے مغرب کی زبانوں سے حاصل کیا ہے، جیسے فارسی، ترکی اور تاجک۔ عربی سے جو کچھ لیا گیا ہے اس میں سے زیادہ تر براہ راست نہیں بلکہ فارسی کے ذریعے آیا ہے۔
Vasudha Dalmia (31 Jul 2017).
Hindu Pasts: Women, Religion, Histories
(بزبان انگریزی). SUNY Press. p. 310.
ISBN
978-1-4384-6807-5
الفاظ کے مسئلے پر، احمد سید احمد دہلوی کا حوالہ دیتے ہیں جب وہ انیسویں صدی کے اواخر میں فرہنگِ آصفیہ، جو ایک اردو لغت، مرتب کرنے لگے تھے۔ سید احمد کو فارسی کے ساتھ اردو کا رشتہ کم کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی جیسا کہ ان کی لغت کے عنوان سے ظاہر ہے۔ اس کا اندازہ ہے کہ اس نے اپنی ڈکشنری میں جو 55.000 اردو الفاظ مرتب کیے ہیں ان میں سے تقریباً 75 فیصد سنسکرت اور پراکرت سے ماخوذ ہیں، اور زبان کے بنیادی الفاظ کا پورا ذخیرہ، بغیر کسی استثنا کے، انہی ذرائع سے ہے' (2000)  : 112–13)۔ جیسا کہ احمد بتاتے ہیں، سید احمد، دہلی کی اشرافیہ کے ایک رکن کے طور پر، فارسی اور عربی کی طرف واضح تعصب رکھتے تھے۔ اردو میں پراکیٹک الفاظ کی فیصد کے بارے میں ان کے اندازے کو زیادہ قدامت پسند سمجھا جانا چاہیے۔ روزمرہ کی زبان میں پراکیٹک الفاظ کا اصل تناسب واضح طور پر بہت زیادہ ہوگا۔
Afroz Taj (1997).
"About Hindi-Urdu"
(بزبان انگریزی). University of North Carolina at Chapel Hill. Archived from
the original
on 2009-08-15
. Retrieved
2018-03-27
"Urdu's origin: it's not a "camp language"
dawn.com
۔ 17 دسمبر 2011۔ 2015-09-24 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2015-07-05
اردو اسم اور صفت کی مختلف قسمیں ہو سکتی ہیں، جیسے عربی، فارسی، ترکی، پشتو اور یہاں تک کہ پرتگالی، لیکن ننانوے فیصد اردو فعل کی جڑیں سنسکرت/پراکرت میں ہیں۔ لہذا یہ ایک ہند آریائی زبان ہے جو ہند-ایرانی خاندان کی ایک شاخ ہے، جو بدلے میں زبانوں کے ہند-یورپی خاندان کی شاخ ہے۔ ڈاکٹر گیان چند جین کے مطابق، ہند آریائی زبانوں کے ارتقاء کے تین مراحل تھے جو تقریباً 1500 قبل مسیح سے شروع ہوئے اور ویدک سنسکرت، کلاسیکی سنسکرت اور پالی کے مراحل سے گزرے۔ انہوں نے پراکرت اور اپبھرنش میں ترقی کی، جس نے بعد میں مقامی بولیوں کی تشکیل کی بنیاد کے طور پر کام کیا۔
India Perspectives, Volume 8
(بزبان انگریزی). PTI for the Ministry of External Affairs. 1995. p. 23.
اردو میں تمام فعل سنسکرت سے ہیں۔ لغت نگاروں کے مطابق اردو لغت میں صرف 25 فیصد الفاظ فارسی یا عربی کے ہیں۔
Kees Versteegh; C. H. M. Versteegh (1997).
The Arabic Language
(بزبان انگریزی). Columbia University Press.
ISBN
978-0-231-11152-2
... مقامی زبانوں میں بہت سے عربی قرات کے الفاظ، جیسا کہ اردو اور انڈونیشیائی زبان میں، بنیادی طور پر فارسی کے ذریعے متعارف کرائے گئے تھے۔
Iqtidar Husain Khan (1989).
Studies in Contrastive Analysis
(بزبان انگریزی). The Department of Linguistics of Aligarh Muslim University. p. 5.
ایک اندازے کے مطابق اردو ذخیرہ الفاظ کا تقریباً 25% فارسی اور عربی زبان کے الفاظ پر مشتمل ہے۔
American Universities Field Staff (1966).
Reports Service: South Asia series
(بزبان انگریزی). American Universities Field Staff. p. 43.
The Urdu vocabulary is about 30% Persian.
Sisir Kumar Das (2005).
History of Indian Literature: 1911–1956, struggle for freedom : triumph and tragedy
(بزبان انگریزی). Sahitya Akademi.
ISBN
9788172017989
پروفیسر گوپی چند کے بیان کے مطابق؛ اردو میں فارسی کی طرف رجحان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کا آغاز اٹھارویں صدی میں دہلی کے شعراء کے اسکول سے معیاری کاری کے نام پر ہوا۔ اقبال کے عروج کے ساتھ نارنگ لکھتے ہیں کہ یہ عرب فارسی اثرات کی طرف مزید جھک گیا۔ فیض احمد فیض کا وہ کلام جو اقبال کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا اس میں بھی فارسی کاری کا نشان ہے۔ تو یہ ن ایم راشد کا قول ہے جنہوں نے اردو شاعری میں آزاد نظم کو مقبول بنایا۔ ایک اور رجحان ساز میراجی کے مقابلے راشد کی زبان پر تازہ ایرانی اثرات واضح طور پر نمایاں ہیں۔ میراجی دوسری انتہا پر ہیں کیونکہ انہوں نے ہندی زدہ اردو استعمال کی۔'
C. Shackle (1 Jan 1990).
Hindi and Urdu Since 1800: A Common Reader
(بزبان انگریزی). Heritage Publishers.
ISBN
9788170261629
Alan S. Kaye (30 Jun 1997).
Phonologies of Asia and Africa: (including the Caucasus)
(بزبان انگریزی). Eisenbrauns.
ISBN
978-1-57506-019-4
Michael Clyne (24 May 2012).
Pluricentric Languages: Differing Norms in Different Nations
(بزبان انگریزی). Walter de Gruyter.
ISBN
978-3-11-088814-0
Danesh Jain; George Cardona (26 Jul 2007).
The Indo-Aryan Languages
(بزبان انگریزی). Routledge. p. 294.
ISBN
978-1-135-79711-9
Aijaz Ahmad (2002).
Lineages of the Present: Ideology and Politics in Contemporary South Asia
(بزبان انگریزی). Verso. p. 113.
ISBN
978-1-85984-358-1
اس پر آبادی کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ قابل اعتماد اعدادوشمار ہیں۔
فرہنگِ آصفیہ
عام اتفاق سے اردو کی سب سے معتبر لغت ہے۔ اسے انیسویں صدی کے اواخر میں ایک ہندوستانی اسکالر نے مرتب کیا تھا جو برطانوی یا مستشرقین کے اسکالرشپ سے بہت کم واقف تھا۔ زیر بحث لغت نگار، سید احمد دہلوی، اردو کے فارسی کے تعلق کو کم کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے، جیسا کہ ان کی لغت کے عنوان سے بھی ظاہر ہے۔ اس کا اندازہ ہے کہ اس نے اپنی لغت میں جو 55,000 اردو الفاظ مرتب کیے ہیں ان میں سے تقریباً 75 فیصد سنسکرت اور پراکرت سے ماخوذ ہیں، اور زبان کے بنیادی الفاظ کا پورا ذخیرہ، بغیر کسی استثنا کے، انہی ذرائع سے اخذ کیا گیا ہے۔ جو چیز اردو کو بہت سی دوسری ہندوستانی زبانوں سے ممتاز کرتی ہے... وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے الفاظ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہندوستان کے مغرب کی زبانوں سے حاصل کیا ہے، جیسے فارسی، ترکی اور تاجک۔ عربی سے جو کچھ لیا گیا ہے اس میں سے زیادہ تر براہ راست نہیں بلکہ فارسی کے ذریعے آیا ہے۔
Paul Teyssier: História da Língua Portuguesa
, S. 94.
Peter Austin (1 ستمبر 2008)۔
One thousand languages: living, endangered, and lost
۔ University of California Press۔ ص 120–۔
ISBN
978-0-520-25560-9
۔ 2013-05-09 کو اصل سے
آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2011-12-29
InpaperMagazine (13 نومبر 2011)۔
"Language: Urdu and the borrowed words"
dawn.com
۔ 2015-07-02 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2015-03-29
John R. Perry, "Lexical Areas and Semantic Fields of Arabic" in Éva Ágnes Csató, Eva Agnes Csato, Bo Isaksson, Carina Jahani,
Linguistic convergence and areal diffusion: case studies from Iranian, Semitic and Turkic
, Routledge, 2005. pg 97: "عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرکزی، متصل ایرانی، ترکی اور ہندی زبانوں میں عربی الفاظ کا بڑا حصہ اصل میں نویں اور تیرہویں صدی کے درمیان ادبی فارسی میں لیا گیا تھا۔"
Colin P. Masica, The Indo-Aryan languages.
Khan, Sajjad, Waqas Anwar, Usama Bajwa, and Xuan Wang.
Aijazuddin Ahmad (2009)۔
Geography of the South Asian Subcontinent: A Critical Approach
۔ Concept Publishing Company۔ ص 120–۔
ISBN
978-81-8069-568-1
The very word Urdu came into being as the original
Lashkari
dialect, in other words, the language of the army.
"About Urdu"
۔ Afroz Taj (University of North Carolina at Chapel Hill)۔ 2009-08-15 کو
اصل
سے آرکائیو کیا گیا
۔ اخذ شدہ بتاریخ
2008-02-26
India: The Last Handwritten Newspaper in the World · Global Voices
Anshuman Pandey (13 Dec 2007).
"Proposal to Encode the Kaithi Script in ISO/IEC 10646"
(PDF)
(بزبان انگریزی). Unicode
. Retrieved
2020-10-16
کیتھی کو بہار کی عدالتوں میں اردو لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جب اس نے 1880ء کی دہائی میں فارسی عربی کو سرکاری رسم الخط کے طور پر بدل دیا۔ برطانوی دور سے بہار سے موجود زیادہ تر قانونی دستاویزات کیتھی میں لکھی گئی اردو میں ہیں۔ ایسے مخطوطات کی کافی تعداد موجود ہے، جن کے نمونے شکل 21، شکل 22 اور تصویر 23 میں دیے گئے ہیں۔
Christopher Rolland King (1999).
One Language, Two Scripts: The Hindi Movement in Nineteenth Century North India
(بزبان انگریزی). Oxford University Press. p. 67.
ISBN
978-0-19-565112-6
Ali Ashraf (1982).
The Muslim Elite
(بزبان انگریزی). Atlantic Publishers & Distributors. p. 80.
سرکاری زبان کے طور پر انگریزی کے استعمال کے باوجود عدالتی زبان 'کیتھی' رسم الخط میں اردو تھی۔
K. K. Varma; Manohar Lal (1997).
Social Realities in Bihar
(بزبان انگریزی). Novelty & Company. p. 347.
ایسٹ انڈیا کمپنی سے پہلے بہار میں سیکھنے اور انتظامیہ کی زبان فارسی تھی اور بعد میں اس کی جگہ انگریزی نے لے لی۔ تاہم عدالتی زبان کیتھی رسم الخط میں لکھی جانے والی اردو ہی رہی۔
"বিদ্রোহী কবি নজরুল ; একটি বুলেট কিংবা কবিতার উপাখ্যান"
(بزبان بنگالی). 1 Jun 2014. Archived from
the original
on 2023-03-26
. Retrieved
2023-07-21
Islam, Rafiqul (1969).
নজরুল নির্দেশিকা
(بزبان بنگالی).
Khan, Azahar Uddin (1956).
বাংলা সাহিত্যে নজরুল
Nazrul in Bengali literature
] (بزبان بنگالی).
Muhammad Shahabuddin Sabu; Nazir Uddin, eds. (2021).
বাংলা-ঢাকাইয়া সোব্বাসী ডিক্সেনারি (বাংলা - ঢাকাইয়া সোব্বাসী অভিধান)
(بزبان بنگالی). Bangla Bazar, Dhaka: Takiya Mohammad Publications.
پاکستان کی زبانیں
دفتری زبانیں
اردو
قومی زبان
پاکستانی انگریزی
دیگر زبانیں
(بلحاظ
انتظامی تقسیم
آزاد کشمیر
ڈوگری
گوجری
کشمیری
[کنڈل شاہی
پہاڑی-پوٹھواری
بلوچستان
بلوچی
براہوی
دہواری
ہزارگی
جدگالی
کھیترانی
پشتو
ونیسی
گلگت بلتستان
بلتی
بروشسکی
ڈوماکی
کھوار
پرگی
شینا
وخی
خیبر پختونخوا
بروشسکی
بدیشی
بٹیری
چیلیسو
دمیلی
گواربتی
گورو
ہندکو
انڈس کوہستانی
گاوری
کالاشہ
کلکوٹی
کاٹی
کھوار
کوہستانی شینا
منکیالی
مونجی
اورمڑی
پھالولہ
پشتو
ساوی
شیخانی
توروالی
اشوجی
وزیرستانی
یدغہ
پنجاب
باگڑی
ڈوگری
ہندکو
کبوترا
مارواڑی
میواڑی
پوٹھواری پنجابی
پنجابی
لہجے
سرائیکی
راجستھانی
رنگھری
سندھ
آیر
باگڑی
بنگالی
بھایا
ڈھاٹکی
Goaria
گجراتی
جنڈاوڑا زبان
جوگی
کولی
Kachi
Parkari
Wadiyara
کچھی
Loarki
مارواڑی
Memoni
میواڑی
اوڈ
راجستھانی
رنگھری
سندھی
اردو
Vaghri
متعلقہ موضوعات
ہند آریائی زبانیں
داردی زبانیں
ایرانی زبانیں
پاک و ہند اشاراتی زبان
عربی زبان
Persian
پاکستان میں ہندی
ہندی زبان
چغتائی زبان
بھارت
کی سرکاری
زبانیں
وفاقی سطح
ہندی
انگریزی
بھارتی دستور
کے مطابق سرکاری زبانیں
اردو
اوڑیا
آسامی
بنگالی
بوڑو
پنجابی
تیلگو
تمل
ڈوگری
سنسکرت
سندھی
سنتالی
کنڑا
کشمیری
کونکنی
گجراتی
میتھلی
ملیالم
منی پوری
مراٹھی
نیپالی
ہندی
صوبائی درجہ
اردو
اوڑیا
آسامی
بنگالی
بوڑو
پنجابی
چھتیسگڑھی
ڈوگری
راجستھانی
زبانگریزی
سنسکرت
سنتالی
سندھی
کنڑا
کشمیری
کھاسی
کوکبوروک
کونکنی
گارو
گجراتی
میتھلی
ملیالم
منی پوری
مراٹھی
میزو
نیپالی
ہندی
دیگر زبانیں
اودھی
اہیرانی
بھوجپوری
بندیلی/بندیل خان
باگھیلی/باگھیل خان
پہاڑی
لامان/لامبدی
نمادی
سدن/سدری
ڈھونڈری
سرگوجیا
باگڑی راجستھانی
بنجاری
ناگپوریا (ورھدی)
سورجپوری
کانگری
کماؤنی
کھورتھ/کھوٹا
گڑھوالی
گوندی
ماگھڈ/ماگھی
ماڈیا
ماروری
مالوی
میواری
ہاروتی
ہریانوی
اردو
تاریخ
حروف تہجی
قواعد
علمِ اصوات
فرہنگ
نستعلیق
بریل
اقسام
معیاری اشکال
اردو
ہندی
ہندوستانی زبان
لہجے
دکنی
حیدرآبادی
کھڑی بولی
ریختہ
اشکال
اورنگ آباد میں اردو
برطانیہ میں اردو
رومن اردو
عالمی تنظیمیں
ادارہ فروغ قومی زبان
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
سیاست
اردو تحریک
اردو ہندی تنازع
فنون
اعزازات
ادب
علم الاطلاعات
سنیما
شاعری
موسیقی
مصنفین
شعرا
ترقی پسند تحریک
فصیح الدین و بیگم رومن سازی
اردو کی اشکال
معیاری اشکال
اردو
ہندی
ہندوستانی زبان
بولیاں
دکنی
حیدرآبادی اردو
کھڑی بولی
ریختہ
دوسری اشکال
اورنگ آباد میں اردو
برطانیہ میں اردو
رومن اردو
دوسری اشکال:
ہریانوی زبان
برج بھاشا
لغات ِ اردو
قدیم
اور
وسطی اردو
خالق باری
حفظ اللسان
لغات گجری
اللہ خدائی
رازق باری
ایزد باری
صمد باری
قواۃ الکلام
قصیدہ در لغات ہندی
گنج نامہ
فرہنگ اصطلاحات سائنس
نوادر الفاظ
غرائب اللغات
برطانوی دور کے اردو لغات
شمس البیان فی مصطلحات ہندوستان
دلیل ساطع
نفائس اللغات
نفس اللغہ
منتخب النفائس
ہندوستانی ڈکشنری
گلشن فیض
سرمایہ زبان اردو
مخزن فوائد
مخزن المحاوارت
بہار ہند
لغات اردو
مصطلاحات اردو
خزائن المثال
جامع اللغات اردو
امیر الغات
ارمغان دہلی
لغات کشوری
لغات النساء
فرہنگ آصفیہ
فرہنگ عامرہ
بھارتی اردو لغات
مختصر اردو لغت
نور اللغات
اردو کی صوتی لغت
پاکستانی اردو لغات
اردو لغت
علمی اردو لغت
فیروز اللغات
اظہرالغات
قدیم اردو کی لغت
جامع اردو لغت
جدید اردو لغت
کفایت اردو لغت
نسیم اللغات
رئیس اللغات
لغات و محاورات ناسخ
قائد اللغات
آن لائن
اردو لغت
ریختہ اردو لغت
آگرہ ڈویژن
کے موضوعات
عمومی
دوآب
خطۂ برج
سمن کی پناہ گاہ
اساطیر و تاریخ
متھرا
کرشنا
کرشن جنم اشٹمی
آگرہ
سلطنت مغلیہ
آگرہ اور اودھ کے متحدہ صوبے
سیاحتی مقامات
آگرہ
تاج محل
قلعہ آگرہ
فتح پور سیکری
بلند دروازہ
اکبر کا مقبرہ
مقبرہ اعتماد الدولہ
چینی کا روضہ
مریم الزمانی کا مقبرہ
گیارہ سیڑھی
جامع مسجد
موتی مسجد
منکامیشور مندر
گورو کا تال
رام باغ
مہتاب باغ
پالیوال پارک
تاج مہوتسو
آگرہ میں سیاحتی مقامات
متھرا
کیساوا دیو مندر
ورنداون چندرودیا مندر
پریم مندر
بانکے بہاری مندر
کرشنا بلرام مندر
اضلاع
آگرہ
فیروز آباد
مین پوری
متھرا
دریا، جھیلیں
دریائے جمنا
کیتھم جھیل
آگرہ کینال
زبانین
برج بھاشا
اردو-ہندی
کھڑی بولی
ہندی
اردو
جاٹاو
نقل وحمل
نیشنل ہائی وے 2
گرینڈ ٹرنک روڈ
نیشنل ہائی وے 3
نیشنل ہائی وے 11
نیشنل ہائی وے 93
لوک سبھا حلقے
فیروز آباد
آگرہ
فتح پور سکیری
متھرا
مین پوری
مزید دیکھیے
سانچہ:ضلع آگرہ
ضلع فیروز آباد میں شہر اور قصبے
ضلع مین پوری میں شہر اور قصبے
ضلع متھرا میں شہر اور قصبے
ضلع آگرہ کے گاؤں
ضلع فیروز آباد کے گاؤں
متھرا ضلع کے گاؤں
آگرہ کی شخصیات
فیروز آباد کی شخصیات
مین پوری کی شخصیات
متھرا کی شخصیات
دیگر ڈویژن
علی گڑھ
الہ آباد
اعظم گڑھ
بریلی ڈویژن
بستی
چترکوٹ
دیوی پتن
فیض آباد
گورکھپور
جھانسی
کانپور
لکھنؤ
میرٹھ
مرزا پور
مرادآباد
سہارنپور
وارانسی ڈویژن
موضوعات
اردو
تاریخ
ابجد
قواعد
صوتیات
اطلاعیات
لغت
نستعلیق
اردو بریل
رومن اردو
فجی اردو
خالص اردو
فصیح الدین و بیگم رومن سازی
ادب
مصنفین
شاعری
شعرا
اردو ہندی تنازع
اردو تحریک
دکنی
حیدر آبادی اردو
کھڑی بولی
ہندوستانی
برطانیہ میں اردو
ترقی پسند تحریک
باب اردو
ہند ایرانی زبانیں
ہند۔آریائی (انڈک)
قدیم /
وسطی
قدیم
سنسکرت
ویدک
کلاسک
بدھی
Mitanni superstrate
وسطی
Abahatta
اپ بھرنش
Dramatic Prakrit
مگدھی پراکرت
Maharashtri
شورسینی زبان
Elu
Gāndhārī
پراکرت
Paisaci
پالی
پراکرت
جدید
وسطی
ہندی
اودھی
Bagheli
Bambaiya Hindi
برج بھاشا
بھوجپوری
سرنامی ہندوستانی
Bundeli
Chhattisgarhi
فجی ہندی
ہریانوی
قنوجی زبان
سانسی زبان
اردو
دکنی
ریختہ
(موجودہ)
دیگر
Dhanwar Rai
مشرقی
بنگالی آسامی
آسامی
بنگلہ
Bishnupriya Manipuri
Chakma
چٹاگانگی زبان
Hajong
Kayort
Kharia Thar
Nahari
Rajbanshi
روہنگیا زبان
سلہٹی بولی
بہاری
انگیکا
مگہی زبان
Maithili
Majhi
Sadri
اوریا
حلبی
اوریا
دیگر
مل پہرہ
شمالی
Garhwali
Kumaoni
نیپالی زبان
نیپالی زبان
پوٹھوہاری لہجہ
شمال
مغربی
پنجابی
سرائیکی زبان
ماجھی لہجہ
دیگر
Aer
ڈیرہ والی لہجہ
ڈوگری
ہندکو
Kangri
کچھی
سندھی
جنوبی
مراٹهی-کونکنی
کونکنی
مراٹھی
متعلقہ
دیویہی
سنہالی
مغربی
بھیل
بھیلی
Gamit
راجستھانی
باگڑی
Goaria
گوجری
Jaipuri
Malvi
Marwari
Mewari
Dhatki
(لہجہ)
دیگر
Domari
گجراتی
Kalto
خاندیشی زبان
Parkari Koli
Romani
Saurashtra
آریائی
ایرانی
قدیم / وسطی
قدیم
مغربی
فارسی
مادی
مشرقی
اوستائی
Old Scythian
وسطی
مغربی
Middle Persian
Parthian
مشرقی
Bactrian
Khwarezmian
اوسیشیائی زبان
Jassic
Sakan (Sacian)
Scythian
سغدی زبان
جدید
شمالی
Old Azari
بلوچی زبان
مغربی ایرانی زبانیں
Zoroastrian Dari
Fars
گیلکی زبان
Gorani
کردی
کرمانجی
سورانی
Kermanshahi
Laki
طبری
Semnani
Taleshi
deilami
Tati
زازاکی
مشرقی
پامیر
Ishkashimi
مونجی زبان
Roshani
Shughni
Sarikoli
وخی زبان
Yazgulami
یدغہ
دیگر
اوسیشیائی
پشتو
Yaghnobi
اورمڑی
Parachi
مغربی
جنوبی
فارسی
Dari
تاجک
لورش زبان
Feyli
Bakhtiari
Laki
Kumzari
Caucasian Tat
اچمی زبان
Bashkardi
دیگر ہند-آریائی زبانیں
دردک
دامیلی زبان
ڈوماکی
گواربتی زبان
گاوری زبان
کالاش زبان
کشمیری
کھووار
کوہستانی زبان
Nangalami
پھالولہ زبان
Pashayi
شینا زبان
Shumashti
توروالی زبان
اشوجی زبان
Nuristani
کمکتہ-وری
کاٹی زبان
Kata-vari
Mumviri
دیگر
Askunu
Kalasha-ala
Kamkata-viri
Tregami language
Vasi-vari
ترچھی
اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ
ناپید زبانیں
ہیں۔
جدید
ہند آریائی زبانیں
داردی
کشمیری
کشمیری
کشٹواڑی
شینا
شینا
بروکھسٹ
کنڈل شاہی
کلکوٹی
شوجی
پھالولہ
ساوی
Pashayi
Pashayi
Kunar
دامیلی
گواربتی
Nangalami
Shumashti
چترال
کالاش
کھوار
کوہستانی
انڈس کوہستانی
بٹیری
چیلیسو
گورو
گاوری
Tirahi
توروالی
Wotapuri-Katarqalai
شمالی
مشرقی
ڈوٹیلی
Jumli
نیپالی
وسطی
Garhwali
Kumaoni
مغربی
ڈوگری
Kangri
Bhadarwahi
Churahi
Bhateali
Bilaspuri
Chambeali
Gaddi
Pangwali
Mandeali
Mahasui
Jaunsari
Kullui
Pahari Kinnauri
Hinduri
Sirmauri
شمال-مغربی
پنجابی
مشرقی
پنجابی
لہجے
سانسی
لہندا
ہندکو
Inku
کھیترانی
پوٹھوہاری
سرائیکی
سرازی
سندھی
جدگالی
Kholosi
کچھی
Luwati
Memoni
سندھی
مغربی
گجراتی
آیر
گجراتی
جنڈاوڑا زبان
Koli
Kachi
Parkari
Wadiyara
Lisan ud-Dawat
Parkari Koli
Saurashtra
Vaghri
راجستھانی
باگڑی
Goaria
Loarki
گوجری
Dhundari
ہاراوتی
Malvi
مارواڑی
میواتی
میواڑی
Shekhawati
ڈھاٹکی
Nimadi
Bhil
Bhili
Bhilali
Chodri
Dhodia-Kukna
Dhanki
Dubli
Bauria
Bhilori
Magari
Palya Bareli
Pauri Bareli
Rathwi Bareli
Pardhi
Gamit
Kalto
Vasavi
Wagdi
Vaagri Booli
دیگر
خاندیشی زبان
Lambadi
ڈوماکی
Domari
Romani
list of languages
وسطی
مغربی
برج بھاشا
Bundeli
ہریانوی
ہندوستانی
کوروی بولی
ہندی زبان
(Manak Hindi)
اردو
دکنی
حیدرآبادی
ریختہ
قنوجی زبان
سانسی
Sadhukkadi
مشرقی
اودھی
Bagheli
Chhattisgarhi
فجی ہندی
دیگر
Parya
مشرقی
بہاری
بھوجپوری
کیریبین ہندوستانی
کڑمالی
مگہی زبان
Khortha
میتھلی
انگیکا
Bajjika
Majhi
Musasa
Sadri
Tharu
Kochila
Kuswaric
Bote-Darai
Danwar
Bengali–
Assamese
بنگالی
بنگالی
dialects
سلہٹی زبان
Bishnupriya Manipuri
Hajong
چٹاگانگی زبان
Chakma
Tanchangya
روہنگیا زبان
Kharia Thar
Kurmukar
Mal Paharia
Kamarupic
آسامی
Kamrupi
Goalpariya
Rajbanshi (Nepal)
Rangpuri
سورجاپوری
اڑیہ
اڑیہ
Sambalpuri
Desiya
Bodo Parja
Reli
Kupia
Halbic
Halbi
Bhatri
Kamar
Mirgan
Nahari
جنوبی
Marathi–
Konkani
Marathic
مراٹھی
Varhadi
Andh
Berar Deccan
Varli
Phudagi
Katkari
Kadodi
کوکنی
کوکنی
Maharashtrian Konkani
Canarese Konkani
جزیریاتی
دیویہی
سنہالی زبان
غیر درجہ بند
Bazigar
Chinali–Lahul
Chinali
Lahul Lohar
Sheikhgal
Pidgins/
creoles
Andaman Creole Hindi
Bombay Hindi
Haflong Hindi
Nagamese
Nefamese
Vedda
مزید دیکھیے
سانچہ:قدیم اور وسطی ہند آریائی زبانیں
ہند ایرانی زبانیں
نورستانی زبانیں
ایرانی زبانیں
پاکستان کی قومی علامات
اہم علامات
قومی ترانہ
پاکستان کی ریاستی علامت
پاکستان کا پرچم
قرارداد پاکستان
(قومی دستاویز)
اردو
(قومی زبان)
شعار
ایمان اتحاد نظم
شخصیات
محمد علی جناح
(بابائے قوم)
محمد اقبال
(قومی شاعر)
فاطمہ جناح
(مارد ملت)
دیگر علامات
دیودار
(قومی درخت)
چکور
(قومی پرندہ)
یاسمین
(قومی پھول)
مارخور
(قومی جانور)
تعمیرات
باب پاكستان
(یادگار)
فیصل مسجد
مزار قائد
(مزار)
مینار پاکستان
(مینار پاکستان)
پاکستان یادگار
(مینار پاکستان)
اخذ کردہ از «
زمرہ جات
بھارت سانچے
ہند ایرانی زبانوں کے سانچے
اردو
آندھرا پردیش کی زبانیں
اتر پردیش کی زبانیں
اشتقاقی زبانیں
بھارت کی زبانیں
بھارت کی سرکاری زبانیں
بہار (بھارت) کی زبانیں
پاکستان کی زبانیں
پنجاب (پاکستان) کی زبانیں
پیشہ ہائے اردو زبان
تلنگانہ کی زبانیں
ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی زبانیں
جھاڑکھنڈ کی زبانیں
جموں و کشمیر کی زبانیں
زبانیں
سندھ کی زبانیں
فاعلی مفعولی فعلی زبانیں
کرناٹک کی زبانیں
گجرات (بھارت) کی زبانیں
مدھیہ پردیش کی زبانیں
معیاری زبانیں
مغربی بنگال کی زبانیں
مہاراشٹر کی زبانیں
ہند۔آریائی زبانیں
ہندوستانی زبان
پوشیدہ زمرہ جات:
سانچے میں دوہرے آرگومنٹ کے حامل صفحات
ایتھنولوگ 18 کا حوالہ دیتے ہوئے زبان کے مضامین
اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: غیر آرکائیو شدہ روابط پر مشتمل حوالہ جات
انگریزی (en) زبان پر مشتمل حوالہ جات
اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر
نقائص حوالہ: تاریخ
اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown
امریکی انگریزی (en-us) زبان پر مشتمل حوالہ جات
بنگالی (bn) زبان پر مشتمل حوالہ جات
منتخب مضامین
رمز دائرۂ لسانیات والے لسانی مضامین
سانچہ خانہ معلومات استعمال کرنے والے مضامین
آیزو 639-2 رمز والی زبانیں
آیزو 639-1 رموز والی زبانیں
Articles citing Nationalencyklopedin
خانہ معلومات میں غیر معاون فیلڈ والے لسانی مضامین
مضامین جن میں عربی زبان کا متن شامل ہے
Pages with plain IPA
Webarchive template warnings
Webarchive template unknown archives
ایتھنولوگ کے علاوہ دیگر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آیزو زبان کے مضامین
ویکی ڈیٹا سے مطابقت رکھنے والی مختصر تفصیل
حوالہ جات میں غلطیوں کے ساتھ صفحات
اردو
نیا موضوع